موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

افغانستان کے مستقل نمائندے اسحق زئی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب سے قبل نام واپس لے لیا

پاکستانی اخبار ڈان کی رپورٹ کے مطابق مسٹر اسحق زئی کا نام پیر کو خطاب کرنے والوں کی فہرست سے ہٹا دیا گیا۔

اقوام متحدہ: اقوام متحدہ میں افغانستان کے مستقل نمائندے غلام اسحق زئی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب سے پہلے اپنا نام واپس لے لیا۔

مسٹر اسحق زئی کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو اس کے 76 ویں سیشن کے آخری دن پیر کو خطاب کرنا تھا، لیکن اس سے پہلے ہی انہوں نے اپنا نام واپس لے لیا۔ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک نے پیر کو اس کی تصدیق کی۔

پاکستانی اخبار ڈان کی رپورٹ کے مطابق مسٹر اسحق زئی کا نام پیر کو خطاب کرنے والوں کی فہرست سے ہٹا دیا گیا۔ مسٹر ڈوجارک نے کہا ‘‘افغانستان نے عام بحث میں اپنی شرکت واپس لے لی ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسٹر اسحق زئی نے اپنے خطاب سے نام واپس لینے کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔

واضح رہے کہ طالبان نے گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو ایک خط لکھا تھا، جس میں افغانستان کے نئے وزیر خارجہ عامر خان متقی کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی کارروائی میں شرکت کی اجازت دینے کی گزارش کی گئی تھی۔ خط میں زور دیکر کہا گیا کہ مسٹر اسحق زئی اب عالمی ادارے میں افغانستان کی نمائندگی نہیں کرتے ہیں۔

طالبان کی جانب سے مسٹر گوتریس کو تحریر کئے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ طالبان نے اپنے دوحہ میں قائم دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کو اقوام متحدہ میں افغانستان کا مستقل نمائندے کے طور پر نامزد کیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ مسٹر غلام اسحق زئی افغانستان کی منتخب حکومت کے مستقل نمائندے تھے۔