موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

طالبان نے بین الاقوامی سطح پر افغانستان کی حمایت کرنے پر پاکستان کی تعریف کی

ذبیح اللہ مجاہد نے اتوار کے روز ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں بین الاقوامی سطح پر افغانستان کی حمایت کرنے پر پاکستان کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمارا پڑوسی ہے اور ہم افغانستان کے بارے میں پاکستان کے موقف کے شکر گزار ہیں۔

اسلام آباد: طالبان نے بین الاقوامی سطح پر افغانستان کی حمایت کرنے پر پاکستان کی تعریف کی ہے۔

پاکستانی روزنامہ ڈان کی رپورٹ کے مطابق، افغانستان کے قائم مقام نائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے اتوار کے روز ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر حمایت کرنے پر تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمارا پڑوسی ہے اور ہم افغانستان کے بارے میں پاکستان کے موقف کے شکر گزار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان بین الاقوامی برادری کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا اور تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو وسعت دینا چاہتا ہے۔ ’’ہم امید کرتے ہیں کہ پڑوسی ممالک بین الاقوامی برادری کے سامنے افغانستان کی حمایت جاری رکھیں گے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ کئی ممالک نے بین الاقوامی برادری اور امریکہ کے سامنے طالبان کے حق میں آواز بلند کی ہے۔

مسٹر ذبیح اللہ نے کہا کہ قطر، ازبکستان اور کئی دیگر ممالک نے افغانستان کے بارے میں مثبت رویہ اختیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھ روز قبل چین اور روس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں گروپ (طالبان) کے حق میں بات کی تھی۔ انہوں نے پنجشیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پنجشیر میں جدوجہد ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی کے ساتھ جنگ ​​کرنا نہیں چاہتے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن قائم کرنے کے بعد طالبان کی ترجیح دیگر ممالک کے ساتھ تجارت کو بڑھانا ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی گروپ نے افغانستان پر حملہ کیا یا حکومت کے خلاف جنگ کی تو اسے مناسب جواب دیا جائے گا۔