موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

کسان یونینوں کا ’بھارت بند‘ صبح 6 بجے سے شروع

مرکزی حکومت کے تین نئے زرعی قوانین کی مخالفت کررہی کسان یونینوں کا ’بھارت بند‘ صبح 6:00 بجے سے شروع ہوگئی ہے۔

نئی دہلی: مرکزی حکومت کے تین نئے زرعی قوانین کی مخالفت کررہی کسان یونینوں کا ’بھارت بند مہم‘ پیر کی صبح 6:00 بجے شروع ہوگئی ہے۔

تقریبا 40 تنظیموں کے متحدہ کسان مورچہ نے پیر کو صبح 6:00 بجے سے شام 4:00 بجے تک ملک بھر میں جگہ جگہ دھرنے اور مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ ان تنظیموں نے کہا ہے کہ وہ مختلف مقامات پر قومی شاہراہوں پر ٹریفک روکیں گے۔

کانگریس اور کچھ دیگر اپوزیشن جماعتوں نے کسانوں کے بھارت بند کی حمایت کی ہے۔ دوسری جانب مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتجاج کا راستہ چھوڑکر بات چیت سے مسئلے کا حل نکالیں۔

کسانوں کے آج کے احتجاج کے اعلان کے پیش نظر جگہ جگہ ٹریفک متاثر ہونے کا امکان ہے۔ ہریانہ، اتر پردیش اور دہلی سمیت کئی دیگر ریاستوں کی پولیس نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔