موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری اور دیگر مسائل پر خاموشی کے لیے اسدالدین اویسی نے سماج وادی پارٹی اور کانگریس پر سخت تنقید کی

اسد الدین اویسی نے میرٹھ میں مسلمانوں کے مذہبی رہنما مولانا کلیم صدیقی کی حالیہ گرفتاری پر  سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور کانگریس پر خاموش رہنے کا الزام لگاتے ہوئے ان دونوں پارٹیوں کی سخت تنقید کی ہے۔

پریاگراج: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے میرٹھ میں مسلمانوں کے مذہبی رہنما مولانا کلیم صدیقی کی حالیہ گرفتاری پر  سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور کانگریس پر خاموش رہنے کا الزام لگاتے ہوئے ان دونوں پارٹیوں کی سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے یہ بات اترپردیش کے پریاگراج (الہ آباد) کے اولڈ سٹی علاقے میں اسلامیہ انٹرمیڈیٹ کالج میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ "ایس پی اور کانگریس ووٹ کھو جانے کے خوف سے مولانا کلیم کی گرفتاری اور دیگر مسائل پر خاموش ہیں۔ ایس پی اور کانگریس مسلمانوں کو صرف اپنے فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہیں، لیکن انہوں نے کبھی بھی مسلم کمیونٹی کی مساوی نمائندگی کے لیے کچھ نہیں کیا ہے۔

یو پی اے ٹی ایس نے معروف اسلامی اسکالر مولانا کلیم صدیقی کو 22 ستمبر کو میرٹھ سے مبینہ طور پر تبدیلی کا ریکیٹ چلانے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ اس کے بعد ایک مقامی عدالت نے صدیقی کو 5 اکتوبر تک عدالتی تحویل میں بھیج دیا تھا۔

اسد الدین اویسی نے اپنے ایک ٹویٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ ہندوستان کا آئین کسی کو بھی اپنے مذہب کی تبلیغ کی اجازت دیتا ہے۔