موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

سارک ممالک اور ہندوستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے: خان

ڈھاکہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق نائب صدر حیدر احمد خان نے کہا ہے کہ سارک ممالک اور ہندوستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے اور ہندوستان کو سب سے بڑے بینیفیشریز کے طور پر فعال ہونا چاہیے۔

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں اپوزیشن بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنما اور ڈھاکہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق نائب صدر حیدر احمد خان نے کہا ہے کہ سارک ممالک اور ہندوستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے اور ہندوستان کو سب سے بڑے بینیفیشریز کے طور پر فعال ہونا چاہیے۔

مسٹر خان نے کہا کہ بنگلہ دیش کے سابق صدر ضیاء الرحمن نے رکن ممالک کے درمیان تعاون کو وسیع کرنے کے لیے مخصوص اہداف کے ساتھ سارک تشکیل دی اور اس سمت میں اب بھی ایک روشن امکان موجود ہے۔ انہوں نے کہا ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ دنیا اب معیشت پر مبنی ہے اور مذہب و معیشت پر مبنی سیاست اس کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ کوئی بھی ملک مذہبی دہشت گردی کی سیاست کے ذریعے ترقی کی طرف نہیں بڑھ سکتا۔ ہمیں اس خطے میں خارجہ پالیسی پر مبنی معیشت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ روہنگیا مسئلہ سے ملک کے 16 کروڑ لوگوں میں مایوسی پیدا ہوئی ہے۔ بنگلہ دیش کی موجودہ خارجہ پالیسی کی وجہ سے یہ مسئلہ مستقبل میں مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے الزام لگایا کہ ملک میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور حکمران عوامی لیگ پر الزام عائد کیا کہ وہ بی این پی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کر کے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ہندوستان کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا ’’وہ (ہندوستان) ایک جمہوری ملک ہے جہاں حکومت انتخابات کے ذریعے بنتی ہے۔ میرے خیال میں ہندوستان کا موقف بی این پی کے حق میں رہا ہے اور امید ہے کہ مستقبل میں بھی ہمارے ساتھ رہے گا۔‘‘