موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

ہندوستان اور روس نے افغانستان کی صورتحال پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا

افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے ایک دن بعد ہندوستان اور روس نے آج وہاں کی صورتحال پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا

نئی دہلی: افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے ایک دن بعد ہندوستان اور روس نے آج وہاں کی صورتحال پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا اور مسائل کے پرامن حل کے عمل کو شروع کرنے کے لیے ماحول بنانے کے امکانات کو تلاش کیا۔

قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے بدھ کو روس کے سیکیورٹی چیف نیکولے پاتروشیف کے ساتھ افغانستان سے متعلق تمام امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جو یہاں دو روزہ دورے پر ہیں۔

روسی سفارت خانے کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریق افغانستان سے متعلقہ مسائل کے حوالے سے ہم آہنگی پر مبنی نقطہ نظر اپنانے پر متفق ہیں۔ بات چیت کے دوران دونوں فریقوں نے وہاں تشدد کو روکنے، سماجی اور نسلی تضادات کو حل کرنے اور افغانستان کے مستقبل کی تشکیل میں افغانوں کے کردار پر زور دیا۔

یہ ملاقات 24 اگست کو وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر ولادی میر پیوٹن کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو کے بعد ہو رہی ہے۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اپنے سینئر حکام سے کہا تھا کہ وہ افغانستان کی صورتحال پر مسلسل رابطے میں رہیں۔

افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد دہشت گردانہ سرگرمیوں میں اضافے کے امکان کے پیش نظر یہ مذاکرات اہمیت کے حامل ہیں۔ دونوں فریقوں نے سیکیورٹی کے شعبہ میں بڑھتے ہوئے دوطرفہ تعاون اور دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

دریں اثنا، امریکی ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنس نے منگل کو قومی سلامتی کے مشیر سے بھی ملاقات کی اور افغانستان میں پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔ تاہم سرکاری طور پر اس بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔