موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

امریکہ کا طالبان کابینہ کے ارکان کے ٹریک ریکارڈ پر اظہار تشویش

امریکہ نے افغانستان میں عبوری حکومت بنانے والی ایک شدت پسند تنظیم، طالبان کے کئی نئے اعلان شدہ کابینہ ارکان کی وابستگی اور ’ٹریک ریکارڈ‘ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

واشنگٹن: امریکہ نے افغانستان میں عبوری حکومت بنانے والی ایک شدت پسند تنظیم، طالبان کے کئی نئے اعلان شدہ کابینہ ارکان کی وابستگی اور ’ٹریک ریکارڈ‘ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے منگل کے روز یہ اطلاع دی۔ ترجمان نے ایک بیان میں کہا ’’ہم نے غور کیا ہے کہ ناموں کی اعلان کردہ فہرست میں خاص طور پر بہت سے افراد شامل ہیں۔ جو طالبان کے رکن یا ان کے قریبی ساتھی ہیں اور ان میں کوئی خاتون شامل نہیں ہے۔ ہم کچھ افراد کی وابستگی اور ٹریک ریکارڈ کے بارے میں بھی فکر مند ہیں۔

واضح رہے کہ طالبان نے کل ملا محمد حسن اخوند کی قیادت میں اپنی نگران حکومت بنانے کا اعلان کیا تھا جس پر اقوام متحدہ نے 2001 سے پابندی عائد کر رکھی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ جو بائیڈن انتظامیہ سمجھتی ہے کہ طالبان کابینہ کو ایک عارضی نگراں حکومت کے طور پر پیش کیا گیا ہے، لیکن اس گروپ کا فیصلہ ان کے کاموں کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ امریکی عہدیدار نے کہا کہ ہم نے اپنی امید واضح کر دی ہے کہ افغان عوام ایک شمولیاتی حکومت کے مستحق ہیں۔ امریکہ طالبان کو غیر ملکی شہریوں اور افغان اتحادیوں کو ملک چھوڑنے کے لیے محفوظ راستہ فراہم کرنے کی ان کی عہد بستگی پر قائم رکھے گا۔

ترجمان نے کہا کہ امریکہ نے اس توقع کو بھی دہرایا ہے کہ طالبان ملک کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکیں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ افغانستان میں انسانی امداد کی اجازت دی جائے۔