موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

افغانستان میں حجاب پہننے والی خواتین ہی تعلیم اور روزگار حاصل کر سکیں گی، افغان ثقافت کو تبدیل کرنے کی کوشش نہ کرے امریکہ: طالبان

طالبان نے کہا ہے کہ افغانستان میں حجاب پہننے والی خواتین کو ہی تعلیم اور کام (روزگار) کا حق ملے گا اور امریکہ کو ملکی ثقافت کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

واشنگٹن: افغانستان پر قبضہ کرنے والے طالبان نے کہا ہے کہ ملک میں صرف حجاب پہننے والی خواتین کو ہی تعلیم اور کام (روزگار) کا حق ملے گا اور امریکہ کو ملکی ثقافت کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے جمعہ کی دیر رات ’فاکس نیوز‘ سے کہا ’’خواتین کے حقوق کے بارے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ ان کی تعلیم اور کام کے بارے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ ہماری ثقافت یہ ہے کہ وہ حجاب کے ساتھ تعلیم حاصل کرسکتی ہیں۔ وہ حجاب کے ساتھ کام کر سکتی ہیں‘‘۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے افغانستان سے خواتین کو بغیر حجاب کے کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کے حقوق یقینی بنانے کی درخواست کی تھی، جو افغان ثقافت کو تبدیل کرنے کی کوشش تھی۔ تنظیم کے نقطہ نظر سے ناقابل قبول ہے۔

واضح رہے کہ طالبان نے ایک ہفتے تک افغانسان کے مختلف صوبوں پر حملوں اور قبضے کے بعد 15 اگست کو کابل میں انٹری کی، جس سے صدر اشرف غنی کو عہدے سے استعفیٰ دے کر ملک چھوڑنا پڑا اور امریکی حمایت یافتہ سرکار گر گئی ۔