جمعہ, مارچ 13, 2026

گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے اور گائے کا تحفظ ہندؤں کا بنیادی حق ہونا چاہیے: الہ آباد ہائی کورٹ

Share

الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کو یہ تجویز دی کہ گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے اور اس کے تحفظ کو ہندؤں کا بنیادی حق قرار دیا جائے۔

پریاگ راج: الہ آباد ہائی کورٹ نے گئو کشی کے ایک معاملے میں داخل ضمانت کی عرضی پر سماعت کے دوران سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کو یہ تجویز دی کہ گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے اور اس کے تحفظ کو ہندؤں کا بنیادی حق قرار دیا جائے۔

الہ آباد ہائی کورٹ جاوید نامی ایک ملزم کی ضمانت کی عرضی پر سماعت کررہا تھا۔ جاوید پر گئو کشی کا الزام ہے۔ معاملے کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس شیکھر یادو نے آج اپنے سخت تبصرے میں مزید کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ جب کسی ملک کے تہذیب و ثقافت اور اس کے عقیدے کو نقصان پہنچایا جاتا ہے تو ملک کمزور ہوجاتا ہے‘۔

جسٹس شیکھر یادو نے جاوید کی ضمانت کی عرض کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ جاوید نے گائے کی چوری کے بعد اس کو ذبح کیا ہے اورا س کا گوشت بھی اس کے پاس ملا ہے۔ یہ ملزم کا پہلا گناہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی وہ ایسا عمل سرزد کر چکا ہے اور گائے ذبیحہ کی وجہ سے سماجی ہم آہنگی کو زک پہنچا ہے۔ کورٹ کا ماننا ہے کہ اگر ایسے افراد کو ضمانت دی گئی تو باہر جاکر وہ پھر ایسے ہی عمل کا ارتکاب کریں گے اور اس سے سماجی ماحول کو نقصان پہنچے گا۔

ملزم کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 379 اور انسداد گئو کشی ایکٹ کی سیکشن 3،5،8 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

Read more

Local News