موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے اور گائے کا تحفظ ہندؤں کا بنیادی حق ہونا چاہیے: الہ آباد ہائی کورٹ

الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کو یہ تجویز دی کہ گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے اور اس کے تحفظ کو ہندؤں کا بنیادی حق قرار دیا جائے۔

پریاگ راج: الہ آباد ہائی کورٹ نے گئو کشی کے ایک معاملے میں داخل ضمانت کی عرضی پر سماعت کے دوران سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کو یہ تجویز دی کہ گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے اور اس کے تحفظ کو ہندؤں کا بنیادی حق قرار دیا جائے۔

الہ آباد ہائی کورٹ جاوید نامی ایک ملزم کی ضمانت کی عرضی پر سماعت کررہا تھا۔ جاوید پر گئو کشی کا الزام ہے۔ معاملے کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس شیکھر یادو نے آج اپنے سخت تبصرے میں مزید کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ جب کسی ملک کے تہذیب و ثقافت اور اس کے عقیدے کو نقصان پہنچایا جاتا ہے تو ملک کمزور ہوجاتا ہے‘۔

جسٹس شیکھر یادو نے جاوید کی ضمانت کی عرض کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ جاوید نے گائے کی چوری کے بعد اس کو ذبح کیا ہے اورا س کا گوشت بھی اس کے پاس ملا ہے۔ یہ ملزم کا پہلا گناہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی وہ ایسا عمل سرزد کر چکا ہے اور گائے ذبیحہ کی وجہ سے سماجی ہم آہنگی کو زک پہنچا ہے۔ کورٹ کا ماننا ہے کہ اگر ایسے افراد کو ضمانت دی گئی تو باہر جاکر وہ پھر ایسے ہی عمل کا ارتکاب کریں گے اور اس سے سماجی ماحول کو نقصان پہنچے گا۔

ملزم کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 379 اور انسداد گئو کشی ایکٹ کی سیکشن 3،5،8 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔