موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

اپنے سخت گیر دور کو دہرانے کا کوئی ارادہ نہیں، لوگ طالبان سے خوش ہیں: سابق سفیر طالبان

سابق طالبان سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کا کہنا ہے کہ اپنے سخت گیر دور کو دہرانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ لوگ طالبان سے خوش ہیں۔

کابل: طالبان رہنما اور پاکستان میں سابق طالبان سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کا کہنا ہے کہ اپنے سخت گیر دور کو دہرانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ لوگ طالبان سے خوش ہیں۔

ملا عبدالسلام ضعیف کا برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں خواتین کی تعلیم جاری ہے اور وہ کام پر بھی جاسکتی ہیں۔ لوگ طالبان سے خوش ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان پہلے ہی اپنے عہد کی پاسداری کر رہے ہیں اور ا پنے سخت گیر دور کو دہرانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ملا عبدالسلام ضعیف نے کہا کہ افغانستان میں اب لوگوں کی زندگیاں معمول پر لوٹ چکی ہیں جبکہ میڈیا کوریج میں طالبان کو بدنام کیا جا رہا ہے۔

سابق طالبان سفیر نے کہا کہ یہ تصور دینا کہ طالبان برے لوگ ہیں، عوام اور تعلیم کے خلاف ہے۔ یہ بڑی سازش ہے، جب میں کابل میں لوگوں سے بات کرتا ہوں تو لوگ کہتے ہیں کہ وہ خوش ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ افغان بغیر دستاویزات کے باہرجانے کیلئے ائیرپورٹ پر افراتفری کو بطور بہانا استعمال کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ قانونی اندازمیں کابل ائیرپورٹ جانے والوں کو طالبان نہیں روک رہے۔ طالبان کے سابق سفیر نے مزید کہا کہ طالبان کسی سے کوئی بدلہ یا انتقام نہیں لے رہے۔