موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

افغانستان میں اب بھی 1500 امریکی شہری موجود ہیں: انٹونی بلنکن

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ افغانستان میں اب بھی 1500 امریکی شہری موجود ہیں، جنہیں نکالنا ہے۔

واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ افغانستان میں اب بھی 1500 امریکی شہری موجود ہیں، جنہیں نکالنا ہے۔

انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ طالبان 31 اگست کے بعد بھی ان امریکیوں اور ان افغان شہریوں کو واپس آنے کی اجازت دینے پر رضا مند ہیں جن کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طالبان قیادت میں آئے تو افغان حکومت کے ساتھ اپنے مفادات کے تحت کام کریں گے۔ امریکی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ تعلقات کا دارومدار اگلی افغان حکومت کے طرز عمل پر ہوگا۔

امریکی وزیر خارجہ نے طالبان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کا احترام نہ کیا گیا تو انہیں دنیا میں تنہا کیا جا سکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ خطے کے ممالک کے ساتھ بات چیت جاری ہے کہ انخلا کے بعد ایئرپورٹ کھلا رکھا جائے۔

دریں اثنا گزشتہ روز برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ جی سیون نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ طالبان افغانستان سے نقل مکانی کرنے والوں کے لیے 31 اگست کے بعد بھی انخلا کے لئے محفوظ راستے کی ’ضمانت‘ دیں۔ عالمی میڈیا میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق بورس جانسن، جنہوں نے ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا نے کہا کہ وہ اور ان کے ساتھیوں نے مستقبل میں طالبان کے ساتھ بات چیت کے لیے لائحہ عمل تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

لیکن انہوں نے ’پہلی شرط‘ کے بارے میں کہا ”31 اگست تک اور اس کے بعد افغانستان سے جو افراد جانا چاہتے ہیں ان کو محفوظ راستہ دینے کی ضمانت دی جائے“۔