موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

طالبان نے 150 سے زائد افراد کو اغوا کیا، بیشتر ہندوستانی شامل

طالبان نے افغانستان کی راجدھانی کابل کے حامد کرزئی انٹریشنل ایئرپورٹ کے نزدیک 150 سے زیادہ لوگوں کو اغوا کرلیا، جن میں بیشتر ہندوستانی شہری ہیں۔

کابل: طالبان نے افغانستان کی راجدھانی کابل کے حامد کرزئی انٹریشنل ایئرپورٹ کے نزدیک سنیچر کی صبح 150 سے زیادہ لوگوں کو اغوا کرلیا، جن میں بیشتر ہندوستانی شہری ہیں۔

مقامی میڈیا نے بااعتماد ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔ کابل ناو ویب سائٹ کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ اغوا شدہ لوگوں میں کچھ افغانی شہری ہیں اور افغانی سکھ بھی شامل ہیں، لیکن ان میں بیشتر ہندوستانی شہری ہیں۔ ہندوستانی حکومت نے حالانکہ اب تک اس سلسلہ میں سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ یہ تمام نصف رات کے بعد تقریباً ایک بجے آٹھ منی وین میں سوار ہوکر کابل ہوائی اڈے کی طرف جا رہے تھے لیکن تعاون کی کمی کی وجہ سے وہ ہوائی اڈہ میں داخل نہیں ہوسکے۔ اسی دوران طالبان کا ایک گروپ جس کے پاس ہتھیار نہیں تھے، ان کے پاس آیا اور ان کے ساتھ مارپیٹ کرنے کے بعد کابل کے ایک مشرقی علاقہ تاراخل میں لے گیا۔

ذرائع میں سے ایک نے بتایا کہ وہ، اس کی اہلیہ اور کچھ دیگر لوگ منی وین کی کھڑکیوں سے نیچے کود کر بھاگنے میں کامیاب رہے۔ طالبان نے مسافروں سے کہا کہ وہ انہیں ایک الگ گیٹ ہوائی اڈہ پر لے جائیں گے لیکن مسافروں کے بارے میں اب تک کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے۔

اس درمیان طالبان کے ایک ترجمان نے الانفارمیشن اخبار کے ساتھ ایک انٹرویو میں اغوا کے الزامات کو مسترد کردیا۔ اس نے کہا کہ تنظیم کے اراکین کابل ہوائی اڈے کے نزدیک موجود تھے اور لوگوں کو ہوائی اڈے میں داخل نہیں ہونے دے رہے تھے۔