موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

فیس بک، ٹک ٹاک طالبان کو فروغ دینے والے مواد پر پابندیاں ختم نہیں کریں گے

فیس بک اور ٹک ٹاک نے کہا ہے کہ وہ طالبان کے افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد تنظیم کو فروغ دینے والے مواد پر پابندیاں ختم نہیں کریں گے۔ 

کیلیفورنیا: سوشل میڈیا سائٹس فیس بک اور ٹک ٹاک نے کہا ہے کہ وہ طالبان کے افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد تنظیم کو فروغ دینے والے مواد پر پابندیاں ختم نہیں کریں گے۔

سی این بی سی نے یہ اطلاع سوشل میڈیا کے اہم لوگوں کے بیان کے حوالے سے دی۔ چینل نے فیس بک کے حوالے سے کہا، "امریکی قانون کے تحت طالبان کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے اور ہم نے اپنی ‘خطرناک تنظیمی پالیسیوں’ کے ایک حصے کے طور پر انھیں اپنی خدمات پر پابندی لگا دی ہے۔”

فیس بک کے ایک نمائندے نے کہا کہ طالبان پر فیس بک نے کئی سالوں سے پابندی عائد کر رکھی ہے اور اس تنظیم کے بنائے گئے تمام اکاؤنٹس کو ہٹا دیا گیا ہے۔ افغان شہریوں کی ایک خصوصی ٹیم فیس بک کے ساتھ مل کر طالبان کی تعریف کرنے والے اکاؤنٹس کی شناخت کے لیے کام کر رہی ہے۔

ٹک ٹاک نے یہ بھی کہا کہ اس نے طالبان کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے اور وہ تنظیم کو فروغ دینے والے مواد کو ہٹاتا رہے گا۔

اتوار کو طالبان نے افغانستان کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا جس کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے اپنے استعفیٰ کا اعلان کرتے ہوئے ملک چھوڑ دیا۔ مسٹر غنی نے کہا کہ انہوں نے تشدد روکنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ دہشت گرد دارالحکومت کابل پر حملہ کرنے کے لیے تیار تھے۔ طالبان کے قبضہ کرنے کے بعد، بہت سے لوگ دہشت گردوں سے جوابی کارروائی کے خوف سے ملک سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔