موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

اقوام متحدہ: انتونیو گوٹریس کی طالبان سے حملے بند کرنے کی اپیل

اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ شہروں اور قصبوں کے کنٹرول کے لیے طالبان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان لڑائی بہت زیادہ نقصان پہنچا رہی ہے اور شہری اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ: اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر افغان حکومتی افواج کے خلاف حملے بند کریں اور افغانستان اور اس کے شہریوں کے مفادات کی خدمات کے اچھے ارادے کے ساتھ مذاکرات کی طرف لوٹیں۔

مسٹر گوٹریس نے جمعہ کے روز نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں صحافیوں کو بتایا کہ افغانستان میں حالات تیزی سے قابو سے باہر ہو رہے ہیں اور انسانی ضروریات بڑھتی جارہی ہیں۔

افغانستان میں غیر ملکی فوجیوں کے انخلا کے دوران طالبان کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ طالبان اب تک افغانستان کے 34 صوبائی دارالحکومتوں میں سے تقریبا نصف اور اس جنوبی ایشیائی ملک کا تقریبا دو تہائی حصہ کنٹرول کر چکے ہیں۔ ہفتہ کو افغانستان کے دارالحکومت کابل سے صرف 50 کلومیٹر دور طالبان کے پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ طالبان نے افغانستان کا دوسرا بڑا شہر قندھار اور تیسرا بڑا شہر ہرات پر قبضہ کر لیا ہے۔

مسٹر گوٹیریس نے کہا ‘افغانستان جو طویل عرصے سے تنازعات کی زد میں ہے، ایک بار پھر اس میں پھنس رہا ہے۔ یہ تنازع ایک طویل عرصے سے یہاں تشدد سے متاثرہ لوگوں کے لئے ایک خوفناک سانحہ ہے۔

طالبان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان لڑائی انتہائی نقصان دہ

اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ شہروں اور قصبوں کے کنٹرول کے لیے طالبان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان لڑائی بہت زیادہ نقصان پہنچا رہی ہے اور شہری اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا "میں تمام فریقوں پر زور دیتا ہوں کہ وہ تنازعات کے بڑے نقصان اور شہریوں پر اس کے اثرات پر توجہ دیں۔ ان سب کو شہریوں کی حفاظت کے لیے زیادہ سے زیادہ کوششیں کرنی چاہئیں۔”

مسٹر گوٹریس نے کہا کہ انہیں ان خبروں سے بہت دکھ ہوا ہے کہ طالبان اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں انسانی حقوق کی پامالی کر رہے ہیں، خاص طور پر خواتین اور صحافیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی خوفناک اور دل دہلا دینے والی بات ہے کہ افغان لڑکیوں اور عورتوں نے جو حقوق حاصل کرنے کے لیے بہت محنت کی ہے، ان سے چھین لیا جا رہا ہے۔