موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

لوک سبھا کی کارروائی مقررہ تاریخ سے دو دن پہلے غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی

لوک سبھا کی کارروائی آج صبح جیسے ہی شروع ہوئی اسپیکر اوم برلا نے اراکین کو پچھلے دنوں ایوان کے چار سابق ممبران کی موت کے بارے میں آگاہ کیا۔ ایوان نے ان کے اعزاز میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی۔ اس کے بعد مسٹر برلا نے ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا۔

نئی دہلی: پیگاسس جاسوسی کیس، کسانوں کا مسئلہ اور مہنگائی کے سلسلے میں حزب اختلاف اور حکومت کے درمیان پارلیمنٹ کے مان سون سیشن میں جاری تعطل مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا اور لوک سبھا کی کارروائی مقررہ تاریخ سے دو دن پہلے غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

ایوان کی کارروائی آج صبح 11:00 بجے جیسے ہی شروع ہوئی اسپیکر اوم برلا نے اراکین کو پچھلے دنوں ایوان کے چار سابق ممبران کی موت کے بارے میں آگاہ کیا۔ ایوان نے ان کے اعزاز میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی۔

اس کے بعد مسٹر برلا نے ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا۔ اس دوران انہوں نے اپوزیشن کی جانب سے تعطل کی وجہ سے ایوان کے کام کاج کے متاثر ہونے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس سیشن میں تعطل کی وجہ سے صرف 17 نشستیں منعقد ہوئیں اور صرف 21 گھنٹے 24 منٹ کام کاج ہو سکا جو کہ کل طے شدہ مدت کا صرف 22 فیصد ہے۔

اسپیکر نے کہا کہ ارکان کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے کام 74 گھنٹے 46 منٹ تک متاثر ہوا۔ انہوں نے اس سیشن میں منظور شدہ او بی سی کی فہرست سے متعلق آئین ترمیمی بل سمیت مختلف بلوں کا بھی حوالہ دیا۔

اس کے بعد اسپیکر نے ایوان کی کارروائی ملتوی کردی۔ اس دوران وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ اور بیشتر مرکزی وزراء بھی ایوان میں موجود تھے۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی بھی اپوزیشن کی گیلری میں موجود تھیں۔