موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

اپوزیشن کے ہنگامے کے سبب راجیہ سبھا دن بھر کے لئے ملتوی

پیر کو پارلیمنٹ کا مون سون اجلاس شروع ہوا۔ حزب اختلاف کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے سوائے کورونا کی صورتحال پر گفتگو کے آج تک راجیہ سبھا میں کوئی قانون سازی نہیں ہوسکی۔

نئی دہلی: اپوزیشن اراکین نے جمعرات کو راجیہ سبھا میں زرعی قوانین، پیگاسس جاسوسی کیس اور آندھرا پردیش کو خصوصی حیثیت سمیت مختلف امور پر ہنگامہ کھڑا کردیا جس کی وجہ سے ایوان کو دو مرتبہ ملتوی کرنے کے بعد دن بھر کے لئے ملتوی کردیا گیا۔

لنچ کے وقفے کے بعد جیسے ہی ایوان کی کارروائی آج دو بجے شروع ہوئی ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے وزیر مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی اشونی ویشنو سے پیگاسس معاملے پر بیان دینے کو کہا۔ کانگریس، ترنمول کانگریس، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا اور وائی ایس آر کانگریس کے ممبران نعرے بازی کرتے ہوئے ڈائس کے قریب پہنچ گئے۔

ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے ممبران سے اپیل کی کہ وہ اپنی نشستوں پر واپس جائیں اور ایوان کی کارروائی جاری رکھنے کی اجازت دیں۔ انہوں نے پوچھا کہ ممبران اس معاملے پر بیان دینے کی اجازت کیوں نہیں دیتے ہیں جس کے بارے میں وہ بات کرنا چاہتے ہیں۔

اس دوران مسٹر وشنو نے بیان پڑھنے کی کوشش کی لیکن اپوزیشن کی مخالفت اتنی سخت تھی کہ وہ اپنی بات نہیں رکھ سکے اور انہوں نے اپنا بیان ایوان کی میز پر رکھ دیا۔

ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے ایوان میں افراتفری کی فضا کو دیکھ کر کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کردی۔

اپوزیشن نے صبح سے ہی ان معاملات پر ایوان میں ہنگامہ برپا کردیا تھا جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی پہلے 12 بجے اور پھر 2 بجے تک ملتوی کرنا پڑی۔

پیر کو پارلیمنٹ کا مون سون اجلاس شروع ہوا۔ حزب اختلاف کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے سوائے کورونا کی صورتحال پر گفتگو کے آج تک راجیہ سبھا میں کوئی قانون سازی نہیں ہوسکی۔