موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

حکومت احتجاجی کسان تنظیموں کے ساتھ کھلے ذہن سے بات چیت کے لئے تیار ہے: وزیر زراعت

پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسٹر نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ کسان تنظیموں کو چاہئے کہ نئے زراعتی قوانین کی دفعات پر انہیں اعتراض ہے انہیں نشاندہی کریں، حکومت ان کو حل کرے گی۔

نئی دہلی: وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے آج پھر سے کہا کہ حکومت احتجاجی کسان تنظیموں کے ساتھ کھلے ذہن سے بات چیت کے لئے تیار ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسٹر نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ کسان تنظیموں کو چاہئے کہ نئے زراعتی قوانین کی دفعات پر انہیں اعتراض ہے انہیں نشاندہی کریں، حکومت ان کو حل کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ نئے زراعتی قوانین سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا اور تاجروں کے درمیان مسابقت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسانوں کا احترام کرتی ہے اور انہیں ہر ممکن مدد فراہم کررہی ہے۔

واضح رہے کہ کسان تنظیمیں دہلی کی سرحدوں پر گزشتہ سات ماہ سے زائد عرصے سے نئے زراعتی اصلاحات کے قوانین کو واپس لینے کے مطالبے پر احتجاج کر رہی ہیں۔ کسانوں کی تنظیموں اور حکومت کے مابین گیارہ دور کی بات چیت ہوچکی ہے لیکن کوئی حل نہیں ہوسکا ہے۔ کسان آج جنتر منتر پر احتجاج کر رہے ہیں۔