موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

افغانستان میں 967 طالبانی دہشت گرد ہلاک، 500 سے زائد زخمی

افغانستان کے 20 صوبوں اور نو شہروں میں طالبان کے خلاف لڑائی جاری ہے۔ مختلف حصوں میں گزشتہ چار دنوں کے دوران سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 967 طالبانی دہشت گرد مارے گئے اور 500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

کابل: افغانستان کے مختلف حصوں میں گزشتہ چار دنوں کے دوران سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 967 طالبانی دہشت گرد مارے گئے اور 500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

افغان سیکیورٹی اور ڈیفنس فورسز کے ترجمان جنرل اجمل شنواری نے اتوار کے روز یہ اطلاع دی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے 20 صوبوں اور نو شہروں میں طالبان کے خلاف لڑائی جاری ہے۔  انہوں نے کہا ’’صورتحال میں بہتری کی توقع ہے۔ ایک فوجی جنرل کی حیثیت سے میں یقین دلاتا ہوں کہ تمام افغان علاقوں کا بہادری کے ساتھ دفاع کیا جائے گا‘‘۔

ٹولو نیوز کی رپورٹ کے مطابق شمال مشرقی صوبہ تخار کے طالقان شہر کے بیرونی علاقہ میں سیکیورٹی فورسز اور طالبان دہشت گردوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ یہاں کے رہنے والے مقامی لوگوں نے موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طالبان نے گزشتہ دو ہفتوں سے شہر کو کنٹرول میں لے رکھا ہے۔

طالقان کے رہائشی عبدالکریم نے بتایا ’’صورتحال دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے۔ طالبان کی فائرنگ نے یہاں کے مکانات کو بھی اپنی زد میں لے لیا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’حکومت کو شہر کو اس صورتحال سے باہر نکالنے کی کوشش کرنی چاہئے‘‘۔