ہفتہ, مارچ 28, 2026

ٹیلی کام کی وزارت میں ہوئے گھپلے پر جواب دیں مودی: کانگریس

Share

کانگریس نے کہا ہے کہ سی اے جی کی رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ ٹیلی کام کی وزارت میں ضابطہ بدل کر نجی کمپنی کے ذریعے بغیر ٹینڈر کے کروڑوں کے ٹھیکے دے کر بڑا گھپلہ کیا گیا ہے۔

نئی دہلی: کانگریس نے کہا ہے کہ کمپٹولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا (سی اے جی) کی رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ ٹیلی کام کی وزارت میں ضابطہ بدل کر نجی کمپنی کے ذریعے بغیر ٹینڈر کے کروڑوں کے ٹھیکے دے کر بڑا گھپلہ کیا گیا ہے۔ لہٰذا اس پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تفتیش کروانی چاہیے۔

کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے ہفتے کے روز یہاں پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا کہ رپورٹ کے انکشاف کے سبب گھپلے کے سلسلے میں ہنگامہ نہ ہو اسی لیے وزیراعظم نریندر مودی نے کابینہ توسیع کے وقت ٹیلی کام کے سابق وزیر روی شنکر پرساد کو ہٹا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسٹر مودی کے وزیر بدلنے سے گھپلے پر پردہ نہیں گرے گا لہٰذا انھیں بتانا چاہیے کہ جس کمپنی کے لیے ضابطے بدلے گئے کیا بی جے پی کو اس نے چندہ دیا تھا اور بی جے پی کا کمپنی سے کیا رشتہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ کئی کمپنیاں سرکاری نشان کا استعمال کر رہی ہیں جن کے حوالے سے رائٹ ٹو انفارمیشن (آر ٹی آئی) کے تحت معلومات حاصل نہیں کی جا سکتی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو بتانا چاہیے کہ کیا اسی وجہ سے آر ٹی آئی کو کمزور کیا جا رہا ہے۔

ٹیلی کام کی وزارت میں ہوئے گھپلے پر سی اے جی نے اٹھائی انگلی

ترجمان نے کہا کہ ٹیلی کام کی وزارت میں ہوئے گھپلے پر سی اے جی نے انگلی اٹھائی ہے۔ عوام سات برس سے سی اے جی کا نام ہی بھول گئے ہیں۔ رپورٹ تقریباً 122 پیج کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ منسٹری آف الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں جولائی 2019 سے دسمبر 2020 تک کروڑوں روپیے سی ایس سی کو فائبر کیبل کی مینٹینینس اور آپریشن کے لیے دیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ سی ایس سی وائی فائی چوپال سروسز انڈیا پروائیویٹ لمیٹیڈ کے معرفت سے ڈپارٹمنٹ آف ٹیلی کام نے بغیر ٹینڈر کے پرائیویٹ کمپنیوں کو ٹھیکے دیے ہیں جن میں بڑا گھپلہ ہوا ہے۔

Read more

Local News