موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی: وزارت خارجہ دانش کے اہل خانہ کے رابطے میں ہے

کابل میں طالبان کے حملے میں جان گنوانے والے فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کے جسد خاکی کو ملک میں لانے کے لئے کابل میں واقع ہندوستانی سفیر افغان حکومت اور یہاں وزارت خارجہ مرحوم صحافی کے اہل خانہ کے رابطے میں ہے۔

نئی دہلی: کابل میں طالبان کے حملے میں جان گنوانے والے فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کے جسد خاکی کو ملک میں لانے کے لئے کابل میں واقع ہندوستانی سفیر افغان حکومت اور یہاں وزارت خارجہ مرحوم صحافی کے اہل خانہ کے رابطے میں ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان اریندم باغچی نے یہاں نامہ نگاروں کے سوالات کے جواب میں کہا ’’ہمارے سفیر کابل میں افغان حکومت سے رابطے میں ہیں۔ ہم یہاں ان کے اہل خانہ کو تمام سرگرمیوں سے آگاہ کرا رہے ہیں‘‘۔ واقعے کے وقت وہ قندھار کے ضلع اسپین بولدک میں افغان سیکیورٹی فورسز اور طالبانی دہشت گردوں کے درمیان قندھار میں ہو رہی لڑائی کی کوریج کررہے تھے۔ انہیں قندھار میں افغان فورسز کی سیکیورٹی حاصل تھی۔

مسٹر صدیقی ممبئی میں رہتے تھے۔ انہوں نے دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے معاشیات میں گریجویشن کیا تھا اور 2007 میں اسی یونیورسٹی سے ماس کمیونیکیشن کی تعلیم حاصل کی۔ وہ 2010 میں انٹرن کی حیثیت سے رائٹرز سے وابستہ ہوگئے اور رپورٹنگ کرتے تھے۔ بعد میں وہ فوٹو جرنلزم کرنے لگے۔ سال 2018 میں فوٹو گرافی کے لئے انہیں پلٹزر ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔

وزیر اطلاعات و نشریات انوراگ ٹھاکر نے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ٹویٹ کیا ’’دانش صدیقی نے اپنے غیر معمولی کاموں کی وراثت چھوڑی ہے۔ انہیں فوٹو گرافی کے لئے پلٹزر ایوارڈ ملا تھا اور انہیں قندھار میں افغان فورسز کی سیکیورٹی حاصل تھی۔ ان کی ایک تصویر شیئر کر رہا ہوں۔ انہیں خراج عقیدت۔ ایشور ان کو ابدی سکون عطا کرے۔