موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

اسلامو فوبیا: نئے آئی ٹی اصول پر ہوم ورک کرنے کا سپریم کورٹ کا مشورہ

سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے ذریعہ ملک کے ایک کسی خاص طبقے کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے یا ان کی توہین کرنے والے پوسٹ یا پیغامات کو روکنے اور ایسے لوگوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے سے متعلق عرضی کی سماعت ایک ہفتہ ملتوی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر کو سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے ذریعہ ملک کے ایک کسی خاص طبقے کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے یا ان کی توہین کرنے والے پوسٹ یا پیغامات کو روکنے اور ایسے لوگوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے سے متعلق عرضی کی سماعت کو ایک ہفتہ ملتوی کردی۔ اور درخواست گزار کو مشورہ دیا کہ وہ انفارمیشن ٹکنالوجی سے متعلق نئے قواعد پڑھ کر آئیں۔

چیف جسٹس این وی رمن کی سربراہی میں ڈویژن بنچ نے ایڈووکیٹ خواجہ اعجازالدین کی عرضی کی سماعت آئندہ ہفتے کے لئے ملتوی کردی۔ دریں اثنا، جسٹس رمن نے درخواست گزار سے سوال کیا کہ وہ کیوں ان امور کو اٹھانا چاہتے ہیں جن کو لوگ بھول رہے ہیں؟

چیف جسٹس نے درخواست گزار سے پوچھا، "کیا آپ نے آئی ٹی کے نئے قواعد کو پڑھا ہے؟” اس کے جواب میں، درخواست گزار نے کہا کہ نئے قواعد فرقہ واریت پھیلانے کے لئے کوئی حل فراہم نہیں کرتے۔ تب عدالت نے اس سے کہا کہ وہ آئی ٹی ایکٹ کو صحیح طور پر پڑھ کر اور اس پر ہوم ورک کرکے آئیں۔

درخواست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی بگاڑنے والے پوسٹس سوشل میڈیا پر ڈالنے والوں کے خلاف خصوصی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔