موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

ذات پات پر مبنی ریزرویشن کو ختم کرنے کی درخواست مسترد کردی گئی

سپریم کورٹ کا تعلیم میں ذات پات پر مبنی ریزرویشن سسٹم کو ختم کرنے کی درخواست کی سماعت سے انکار

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے تعلیم میں ذات پات پر مبنی ریزرویشن سسٹم کو ختم کرنے کی درخواست کی سماعت سے انکار کردیا۔

جسٹس ایل ناگیشورا راؤ اور جسٹس ایس رویندر بھٹ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ڈاکٹر سبھاش وجیئرن کی درخواست کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ وہ اس درخواست کی سماعت کے حق میں نہیں ہیں۔ اس کے بعد درخواست گزار نے عدالت سے درخواست واپس لینے کے لئے اجازت طلب کی، جسے انہوں نے قبول کرلیا۔

درخواست گزار کا مطالبہ تھا کہ ذات پات کی بنیاد پر ریزرویشن کو ختم کرنے کے لئے وقت کی حد مقرر کرنے کی ہدایت دی جائے۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ریزرویشن کے تحت ہونہار امیدوار کی نشست نسبتا کم ہونہار امیدوار کو دی جاتی ہے جس سے قوم کی ترقی متاثر ہوتی ہے۔