موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

مرکز اور دہلی حکومت کو سپریم کورٹ کا عوامی مفاد میں ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنے کا مشورہ

حالیہ برسوں میں مرکز اور دہلی حکومت کے مابین جاری تنازعہ کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے، سپریم کورٹ نے عوامی مفاد میں ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

نئی دہلی: حالیہ برسوں میں مرکز اور دہلی حکومت کے مابین جاری تنازعہ کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے عوامی مفاد میں ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

جسٹس سنجے کشن کول، جسٹس دنیش مہیشوری اور جسٹس رشی کیش رائے پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی مرکز اور دہلی میں مختلف نظریات کی حامل حکومتیں موجود تھیں۔ کبھی اتنی تلخی نہیں ہوئی تھی اور معاملہ عدالت تک نہیں پہنچا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں یہ سب کچھ زیادہ ہی ہورہا ہے، جو بدقسمتی کی بات ہے۔
عدالت نے دہلی فسادات کے معاملے میں فیسبک کے عہدیدار کو طلب کرنے سے متعلق اسمبلی کی امن کمیٹی کے حکم کے سلسلے میں عدالت عظمی کے ذریعہ کل سنائے گئے فیصلے میں ان خیالات کا اظہار کیا گیا ہے۔

بنچ نے واضح طور پر کہا کہ دونوں حکومتوں کو مل کر کام کرنا ضروری ہے۔

عدالت نے کہا کہ یہ خیال کرنا قطعا نامناسب ہے کہ صرف ہماری سوچ ہی صحیح ہے، باقی سب کچھ غلط ہے۔