موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

نائیجیریا: مسلح افراد نے اسکول میں موجود 165 طلبہ میں سے 140 کو اغوا کرلیا

نائیجیریا میں اسکول پر حملہ اور بچوں کا اغوا معمول کی بات بن چکی ہے۔ تازہ واقعے میں نائیجیریا کے شمال مغربی علاقے میں مسلح افراد نے 140 طلبا کو اغوا کرلیا۔

ابوجا: نائیجیریا میں اسکول پر حملہ اور بچوں کا اغوا معمول کی بات بن چکی ہے۔ تازہ ترین واقعے میں نائیجیریا کے شمال مغربی علاقے میں مسلح افراد نے 140 طلبہ کو اغوا کرلیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسکول انتظامیہ نے کہا ہے کہ حملہ آوروں نے فائرنگ شروع کی۔ کڈونا میں بیتھل باپٹسٹ ہائی اسکول پر دھاوا بول دیا اور سیکیورٹی گارڈز پر قابو پالیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افراد نے اسکول میں موجود 165 میں سے اکثر بچوں کو اغوا کرلیا۔

اسکول کے ایک استاد ایمانوئیل پاول نے کہا کہ حملہ آوروں نے 140 بچوں کو اغوا کرلیا۔ جبکہ صرف 25 طلبہ بچ گئے اور ہمیں تاحال کچھ معلوم نہیں ہے کہ بچے کہاں ہیں۔

اب تک ایک خاتون استاد سمیت 26 افراد بازیاب

ریاست کڈونا کی پولیس کے ترجمان محمد جلیگ نے اسکول پر حملے کی تصدیق کی لیکن مغوی بچوں کی تعداد اور دیگر تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ملزمان کے تعاقب میں ہیں اور ہم ریسکیو مشن پر ہیں اور اب تک ایک خاتون استاد سمیت 26 افراد کو بازیاب کروایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ نائیجیریا میں مسلح گینگز اکثر دور دراز گاؤں میں حملہ آور ہوتی ہیں جہاں لوٹ مار، مویشیوں کی چوری کے ساتھ ساتھ تاوان کے لیے اسکول کے بچوں اور شہریوں کو اغوا کیا جاتا ہے۔

نائیجیریا میں دسمبر 2020 سے اب تک ایک ہزار سے زائد طلبہ کو اغوا کیا گیا

رپورٹ کے مطابق نائیجیریا میں دسمبر 2020 سے اب تک ایک ہزار سے زائد طلبہ کو اغوا کیا گیا اور ان میں سے اکثر کو مقامی عہدیداروں سے مذاکرات کے بعد رہا کر دیا گیا۔ جبکہ کئی اب بھی ان کی حراست میں ہیں۔

مسلح افراد مضافات میں قائم اسکولوں اور کالجوں کو نشانہ بناتے ہیں جہاں بچوں کی بڑی تعداد ہوتی ہے۔ لیکن سیکیورٹی کے ناقص انتظامات ہوتے ہیں، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزمان کارروائی کرتے ہیں اور بچوں کو باآسانی اپنے ٹھکانوں میں پہنچا کر تاوان کا مطالبہ کرتے ہیں۔