موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

وسیم رضوی کی نظرثانی درخواست پر سماعت پیر کو 

اترپردیش شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم رضوی نے عدالت عظمیٰ میں نظرثانی کی عرضی دائر کی ہے، جس پر کل غور کیا جائے گا۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ قرآن کی 26 آیات کو حذف کرنے سے متعلق عرضی مسترد کئے جانے کے خلاف نظرثانی عرضی پر پیرکے روز سماعت کرے گا۔ اترپردیش شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم رضوی نے عدالت عظمیٰ میں نظرثانی کی عرضی دائر کی ہے، جس پر کل غور کیا جائے گا۔ عرضی گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ اپنے 12 اپریل کے فیصلے پر دوبارہ نظر ثانی کرے۔ ساتھ ہی اس کے خلاف عائد 50،000 روپے کا جرمانہ بھی واپس لے۔

نظرثانی عرضی میں انہوں نے دلیل پیش کی ہے کہ عدالت عظمیٰ نے قرآن مجید سے 26 آیات کو حذف کرنے سے متعلق عرضی مسترد کرنے سے قبل پہلے قومی سلامتی سے متعلق مسئلے پر غور نہیں کیا۔

واضح رہے کہ جسٹس روہنگٹن پھلی نریمن کی سربراہی میں بنچ نے گزشتہ 12 اپریل کو اتر پردیش شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم رضوی کی عرضی کو مسترد کرتے ہوئے ان پر 50،000 روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

جسٹس نریمن نے کہا تھا ’’یہ مکمل طور پر غیر سنجیدہ رٹ پٹیشن ہے‘‘۔ معاملے کی سماعت کے دوران جسٹس نریمن نے پوچھا تھا کہ کیا عرضی گزار عرضی کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔ انہوں نے کہا تھا ’’کیا آپ عرضی شنوائی کے لئے دے رہے ہیں؟ کیا آپ واقعی سنجیدہ ہیں؟۔