موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

امریکہ: جارج فلائیڈ قتل معاملے میں سابق پولیس افسر کو 22 سال 6 مہینے قید کی سزا

امریکہ کی ایک عدالت نے جارج فلائیڈ کی حراستی موت کے جرم میں نیا پولیس کے سابق پولیس افسر ڈیرک شاون کو 22 سال اور چھ ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔

واشنگٹن: امریکہ کی ایک عدالت نے گذشتہ سال سیاہ فام امریکی شہری جارج فلائیڈ کی حراستی موت کے جرم میں نیا پولیس کے سابق پولیس افسر ڈیرک شاون کو 22 سال اور چھ ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔

ہنپین کاؤنٹی ڈسٹرکٹ جج پیٹر کاہل نے جمعہ کو متعلقہ کیس کی سماعت کے بعد یہ سزا سنائی۔ انہوں نے سزا سنائے جانے سے قبل کہا ’’یہ سزا آپ کو ملے حقوق کے غلط استعمال اور جارج فلائیڈ کے ساتھ ہوئے ظلم و بربریت کا نتیجہ ہے‘‘۔

جج نے کہا کہ ان کا یہ فیصلہ رائے عامہ کے جذبات سے الہام نہیں ہے اور اسے کچھ پیغام دینے کی کوشش کے تناظر میں نہیں لیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا ’’ایک عدالت کے جج کا کام قانون کے واضح حقائق کو نافذ کرنے کے ساتھ ہی خصوصی معاملات کو نمٹانا ہے۔”

واضح رہے کہ اپریل 2020 میں 45 سالہ شاون کے قتل کے الزام میں فلائیڈ کو گرفتار کیا گیا تھا۔ حراست میں رکھے جانے کے دوران پولیس افسر نے تھرڈ ڈگری کا استعمال کرتے ہوئے فلائیڈ کی گردن کو اپنے گھٹنوں میں دبا کر رکھا تھا، جس کی وجہ سے اس کی موت ہوگئی۔ اس واقعے کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے اور ہنگامے ہوئے تھے۔