موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

زرعی قانون کے نفاذ کے ایک سال مکمل ہونے پر پھر کانگریس نے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا

کانگریس محکمہ مواصلات کے چیف رندیپ سنگھ سرجے والا نے آج یہاں کہا کہ مودی حکومت نے ایک سال قبل آج ہی کے دن زراعت سے متعلق تین سیاہ ایگریکلچر آرڈیننس لے کر آئی تھی اور اپنے مٹھی بھر سرمایہ دار دوستوں کے لئے 25 لاکھ کروڑ روپے کے سالانہ زرعی پیداوار کے کاروبار کے لئے موقع فراہم کیا تھا۔

نئی دہلی: کانگریس نے زراعت سے متعلق تینوں قوانین کو نافذ کرنے کے ایک سال مکمل ہونے پر ہفتہ کو کہا کہ یہ تینوں قانون ظالمانہ ہیں اور ان کے سبب سیکڑوں کسان شہید ہوئے ہیں۔ اس لئے حکومت کو انہیں فوراً واپس لینا چاہیے۔

کانگریس محکمہ مواصلات کے چیف رندیپ سنگھ سرجے والا نے آج یہاں کہا کہ مودی حکومت نے ایک سال قبل آج ہی کے دن زراعت سے متعلق تین سیاہ ایگریکلچر آرڈیننس لے کر آئی تھی اور اپنے مٹھی بھر سرمایہ دار دوستوں کے لئے 25 لاکھ کروڑ روپے کے سالانہ زرعی پیداوار کے کاروبار کے لئے موقع فراہم کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے ان تینوں سیاہ قوانین کے خلاف ملک کا کسان تحریک کرنے پرمجبور ہوا۔ انہوں نے دہلی کی سرحدوں پر تحریک کرکے حکومت پر ان قوانین کو واپس کرنے کا دباؤ بنایا لیکن حکومت نے ان کی ایک نہیں سنی اور اپنی ضد پر اڑی رہی جس کے سبب شدید سردی اور دیگر وجوہات سے 500 سے زائد کسان تحریک کے دوران شہید ہوگئے۔

ترجمان نے کہا کہ مودی حکومت کو ملک کے کسانوں کے مفاد میں اپنی ضد کو چھوڑ دینا چاہیے اوران تینوں زرعی قوانین کو واپس لینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسان تحریک کررہے ہیں اور وہ حکومت کے کسی بھی ظلم سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔