موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

کانگریس کا بنگال میں ممتا کے خلاف امیدوار نہیں اتارنے کا فیصلہ

نندی گرام سے اسمبلی انتخابات ہارنے کے باوجود وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے والی ممتا بنرجی اب کلکتہ شہر کے بھوانی پور سے اسمبلی انتخاب میں حصہ لیں گی۔ کانگریس نے ان کے خلاف امیدوار نہیں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کانگریس ممتا بنرجی کے خلاف امیدوار نہیں اتار کر اچھا پیغام دینا چاہتی ہے۔

کلکتہ: نندی گرام سے اسمبلی انتخابات ہارنے کے باوجود وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے والی ممتا بنرجی اب کلکتہ شہر کے بھوانی پور سے اسمبلی انتخاب میں حصہ لیں گی۔ کانگریس نے ان کے خلاف امیدوار نہیں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے سے ظاہر ہوگیا ہے کہ بائیں محاذ اور کانگریس کی راہیں الگ ہوگئی ہیں۔

امید ہے کہ 2024 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس اور ترنمول کانگریس کے درمیان معاہدہ ہوسکتا ہے۔ ریاستی کانگریس کے صدر ادھیر رنجن چودھری، جو وزیر اعلی ممتا بنرجی کی شدید مخالف کے طور پر مشہور ہیں، نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی بھوانی پور اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں ممتا بنرجی کے خلاف امیدوار نہیں کھڑا کرے گی۔

انہوں نے مرکزی قیادت کو بتایا ہے کہ اس بار ممتا بنرجی نے اسمبلی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے اور وہ خود بھوانی پور سے کھڑی ہو رہی ہیں۔ لہذا فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان کے اعزاز میں کانگریس کوئی امیدوار میدان میں نہیں اتارے گی۔ تاہم حتمی فیصلہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کرے گی۔

چودھری نے کہا کہ بھوانی پور میں کانگریس بہت خاص مضبوط نہیں ہے۔ امیدوار کھڑا کرنے کے باوجود کچھ نہیں ہوگا۔ لہذا ممتا بنرجی کے خلاف امیدوار نہیں اتار کر اچھا پیغام دینا چاہتی ہے۔