موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

نیتن یاہو کو اقتدار سے بے دخلی کا معاملہ آخری مرحلے میں داخل

اسرائیلی وزیر اعظم بنجامین نیتن یاہو کو عہدے سے ہٹانے اور سیاست میں ‘تبدیلیاں’ لانے کے لیے اسرائیلی سیاستدانوں کے اتحاد کا قیام آخری مراحل میں پہنچ گیا۔

تل ابیب: اسرائیل میں سیاسی اتھل پتھل اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجامین نیتن یاہو کو اقتدار سے بے دخلی کا معاملہ آخری مرحلے میں پہنچتا نظر آ رہا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجامین نیتن یاہو کو عہدے سے ہٹانے اور سیاست میں ‘تبدیلیاں’ لانے کے لیے اسرائیلی سیاستدانوں کے اتحاد کا قیام آخری مراحل میں پہنچ گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ان کے پاس رات 12 بجے تک کا وقت ہے کہ وہ ایک متبادل گورننگ اتحاد قائم کریں جس سے ‘بی بی’ کے نام سے مشہور دائیں بازو کے رہنما کی حکومت کا خاتمہ ہوگا جس نے گزشتہ 12 سالوں سے اسرائیل پر حکومت کی ہے۔

اس کی قیادت سابقہ ٹی وی اینکر یائر لاپڈ کر رہے ہیں جو سیکولر سینٹرسٹ ہیں اور جنہوں نے چند روز قبل ہی ایک ارب پتی دائیں بازو کے مذہبی قوم پرست نفتالی بینیٹ کی اہم حمایت حاصل کی تھی۔
نفتالی بینیٹ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ‘اتحادیوں کی مذاکراتی ٹیم نے پوری رات بیٹھ کر اتحادی حکومت بنانے کی سمت پیشرفت کی ہے’۔

اسرائیل کی 120 نشستوں والی پارلیمنٹ میں 61 نشستوں کی اکثریت حاصل کرنے کے لیے ان کے غیر متوقع اتحاد میں انہیں بائیں بازو اور دائیں بازو کی جماعتوں کو بھی شامل کرنا پڑے گا۔ امکان ہے کہ انہیں عرب اسرائیلی سیاستدانوں کی حمایت کی ضرورت ہوگی۔

اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری جیسے فلیش پوائنٹ پر گہرے نظریاتی اختلافات کے باوجود 71 سالہ بنجامین نیتن یاہو کو عہدے سے ہٹانے کے لیے گروپ بندی کو متحد ہونا پڑے گا۔

واضح رہے کہ اسرائیلی صدر نے حکومت سازی اور دعوی کے لئے آج رات (بدھ کی رات) 12 بجے کا وقت دیا ہے۔