موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

راہل نے لکشدیپ ایڈمنسٹریٹر کی وزیر اعظم سے کی شکایت

وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھے گئے خط میں راہل گاندھی نے کہا کہ لکشدیپ ایڈمنسٹریٹر عوام مخالف فیصلے کررہے ہیں جس کی سخت مخالفت کی جارہی ہے۔ لہذا، انہیں (مسٹر مودی) کو اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہئے۔

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کو خط تحریر کرکے کہا کہ لکشدیپ ایڈمنسٹریٹر عوام مخالف فیصلے کررہے ہیں جن کی زبردست مخالفت ہو رہی ہے۔ اس لئے انہیں (مسٹر مودی) کو اس معاملہ میں مداخلت کرنی چاہئے۔

مسٹر گاندھی نے جمعرات کو تحریر کردہ خط میں کہا کہ لکشدیپ کے ایڈمنسٹریٹر پرفل کھوڑا پٹیل مسلسل ایسے قدم اٹھا رہے ہیں جن سے لکشدیپ کی خوبصورتی اور ثقافت کے انوکھے سنگم کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ لوگ اس وراثت کو بچانے کے لئے تحریک چلا رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایڈمنسٹریٹر منتخب نمائندوں اور عوام سے مشورہ کئے بغیر یکطرفہ فیصلے کرکے بڑی تبدیلیاں کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لکشدیپ کے لوگ ان تجاویز کو من مانی قرار دیکر مخالفت کررہے ہیں۔ ڈرافٹ کی تجاویز سے زمین کی ملکیت سے متعلق حقوق کو کمزور کرتے ہیں، کچھ سرگرمیوں کے لئے ماحولیاتی ضوابط کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ متاثرہ افراد کے لئے قانونی امداد کے متبادل کو محدود کرتے ہوئے عوامی حقوق پر حملہ ہورہا ہے۔

مسٹر گاندھی نے کہا کہ پنچایت ریگولیشن کے مسودے میں دو سے زیادہ بچوں والے اراکین کو نااہل اعلان کرنے کا التزام ہے جو واضح طورپر غیرجمہوری قدم ہے۔ اس کے علاوہ تبدیلی کی ایسی تجاویز ہیں جو مقامی کمیونٹی کے ثقافتی اور مذہبی تانے بانے پر حملہ ہے اس لئے مسٹر مودی کو اس معاملہ میں مداخلت کرنی چاہئے۔