موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

اسرائیل میں ہزاروں افراد نے فلسطین کے ساتھ امن کی حمایت کی

اسرائیلی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ وسطی تل ابیب میں حبیما تھیٹر کے سامنے ہزاروں افراد فلسطین کے ساتھ امن کی حمایت کے لئے جمع ہوئے۔ ریلی کا انعقاد انسانی حقوق کی تنظیم شالوم اچشیف (پیسن او) نے کیا۔

تل ابیب: اسرائیل کے تل ابیب میں ہزاروں افراد فلسطین کے ساتھ امن کی حمایت کے لئے جمع ہوئے۔ انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے اتوار کے روز اس کی اطلاع دی۔

ریلی کا انعقاد انسانی حقوق کی تنظیم شالوم اچشیف (پیس ناو) نے کیا۔ یہ تنظیم فلسطین اسرائیل تنازعہ کے پرامن حل کی حمایت کرتی ہے۔ تنظیم نے ٹوئٹر پر لکھا، "تل ابیب میں ہزاروں افراد نے مساوات، امن اور فلسطین اور یہودی شراکت کی حمایت کی۔”

اسرائیلی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ وسطی تل ابیب میں حبیما تھیٹر کے سامنے ہزاروں افراد جمع ہوئے۔ اجتماع سے خطاب کرنے والوں میں مصنف ڈیوڈ گراس مین اور اسرائیل کی بائیں بازو کی جماعتوں اور عرب پارٹیوں کی نمائندگی کرنے والے رہنما شامل تھے۔ اس دوران لوگوں نے فلسطین کے ساتھ مکمل امن معاہدے پر زور دیا۔

دو ریاستوں کا قیام ہی اسرائیل۔فلسطین تنازع کا واحد حل

دریں اثناء امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی پاسداری کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دو ریاستوں کا قیام ہی اسرائیل۔فلسطین تنازع کا واحد حل ہے۔ وائٹ ہاؤس میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بائیڈن نے کہا کہ ڈیموکریٹک پارٹی اب بھی اسرائیل کی حمایت کرتی ہے اور ہم دعاگو ہیں کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان سیز فائر برقرار رہے۔ انہوں نے دونوں اطراف فرقہ وارانہ لڑائی کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی سلامتی یقینی بناتے ہوئے غزہ کے عوام کی مدد کی جائے۔

اسی کے ساتھ بائیڈن نے کہا کہ اسرئیلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس میں عرب اور یہودیوں کے درمیان تصادم کو روکیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی پاسداری کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دو ریاستوں کا قیام ہی اسرائیل۔فلسطین تنازع کا واحد حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ بھی اصرار کریں گے کہ اسرائیلی شہریوں، عرب اور یہودی دونوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے جبکہ فلسطینیوں کو بھی اسرائیل کے موجود ہونے کے حق کو تسلیم کرنا چاہیے۔