موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

نئے عالمی انسداد بدعنوانی قوانین نافذ ہونا شروع، 22 افراد پر پابندیاں عائد، اثاثے منجمد

برطانیہ میں نئے عالمی انسداد بدعنوانی قوانین پر عمل درآمد شروع ہوگیا اور اس کے ساتھ ہی بین الاقوامی کرپشن پر 22 افراد پر پابندیاں عائد اور اثاثے منجمد کردیئے گئے ہیں۔

لندن: برطانیہ میں نئے عالمی انسداد بدعنوانی قوانین پر عمل درآمد شروع ہوگیا اور اس کے ساتھ ہی بین الاقوامی کرپشن پر 22 افراد پر پابندیاں عائد اور اثاثے منجمد کردیئے گئے ہیں۔

خبررساں ایجنسی کے مطابق پابندیوں کا سامنا کرنے والوں کا تعلق روس، جنوبی افریقہ، سوڈان اور لاطینی امریکہ سے ہے، یوروپی یونین سے علیحدگی کے بعد برطانیہ نے اپنے یہ نئے قوانین متعارف کرائے۔

برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ پابندیوں کا سامنے کرنے والے افراد عالمی سطح پر بڑے کرپشن کیسز میں ملوث ہیں۔ کرپشن سے غریب ملکوں کی دولت ختم ہوجاتی ہے، لوگ غربت میں پھنس جاتے ہیں۔

برطانیہ کی انسانی حقوق سے متعلق پابندیوں کی فہرست میں 78 افراد اور اداروں کے نام شامل ہیں۔ ان کا تعلق روس، سعودی عرب، وینزویلا، پاکستان، میانمار، شمالی کوریا، بیلاروس اور گامبیا سے ہے۔