موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

افسانہ نگار تبسم فاطمہ کا انتقال، شوہر کی موت کا صدمہ برداشت نہ کرسکیں

مشہور ناول اور فکشن نگار مشرف عالم ذوقی کی اہلیہ، فلمساز، صحافی اور افسانہ نگار تبسم فاطمہ شوہر کی موت کا صدمہ برداشت نہ کرتے ہوئے آج تقریباً چھ بجے شام اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔

نئی دہلی: مشہور ناول اور فکشن نگار مشرف عالم ذوقی کی اہلیہ، فلمساز، صحافی اور افسانہ نگار تبسم فاطمہ شوہر کی موت کا صدمہ برداشت نہ کرتے ہوئے آج تقریباً چھ بجے شام اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ ان کی عمر تقریباً پچاس تھی۔ پسماندگان میں ایک بیٹا شاشا ہے۔

ذرائع کے مطابق وہ لیور کینسر سے متاثر تھیں جس کا علاج چل رہا تھا۔ کل ہی ان کے شوہر مشرف عالم ذوقی کا انتقال ہوا تھا اور آج وہ اپنے شوہر کی موت کا صدمہ برداشت نہیں کر پائیں اور اپنی روح خدا کے سپرد کردی۔

محترمہ فاطمہ تبسم صحافت سے بھی وابستہ تھیں

محترمہ فاطمہ تبسم نے دوردرشن کے لئے متعدد سیریلس بنائی تھیں، وہ صحافت سے بھی وابستہ تھیں اور کئی اداروں میں میڈیا ایڈوائزر کی ذمہ داری بھی ادا کی تھی۔ انہوں نے افسانے کے ساتھ شاعری بھی کی تھی۔ ان کے شعری مجموعہ کا نام ’تمہارے خیال کی آخری دھوپ‘ ہے۔ وہ بے حد ملنسار اور مہمان نواز تھیں۔

سیریل بنانے میں اپنے شوہر کا ہاتھ بھی بٹاتی تھیں اور پروڈیوسر کی ذمہ داری بھی ادا کرتی تھیں۔ اردو کے علاوہ ہندی میں ان کی کہانیاں شائع ہوئی ہیں۔ ہندی کتابوں میں ’جرم اور انیہ کہانیاں‘، ’اردو کی شاہکار کہانیاں‘ ہیں۔ ان کے افسانوی مجموعے کا نام ’لیکن جزیرہ نہیں‘ ہے۔

اردو دنیا ان کی موت سے حیرت زدہ

ان کے انتقال سے ان کے بیٹے شاشا پر غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔ اردو دنیا ان کی موت سے حیرت زدہ اور غموں سے نڈھال ہے۔ اس طرح غموں کے پہاڑ شاید ہی ٹوٹتے ہیں۔ ایک امید تھی کہ مشرف عالم ذوقی کے ادھورے کاموں کو وہ پورا کریں گی لیکن وہ خود بھی شوہر کے پاس چلی گئیں اور اردو دنیا کو غمگین کرگئیں۔