موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

کورونا کی سنگینی عالمی بحران ہے یا کچھ اور؟، دنیا کی طویل ترین پرواز میں صرف 11 مسافر اور خدمت کے لیے اسٹاف کے 13 ممبرز

ایوی ایشن ذرائع کے مطابق سنگاپور سے امریکہ کے نیویارک ایئر پورٹ کے لئے روانہ ہونے والی سنگاپور ایئر لائن کی کمرشل پرواز میں صرف 11 مسافر سوار ہیں، جبکہ ان کی خدمت کے لئے 13 ممبرز موجود ہیں۔

نیویارک: کورونا وائرس کی سنگینی عالمی بحران ہے یا کچھ اور کہ سنگاپور سے نیویارک کی دنیا کی طویل ترین کمرشل پرواز میں صرف 11 مسافر سوار ہیں جبکہ ان کی خدمت پر 13 رکنی عملہ تعینات ہے۔

ایوی ایشن ذرائع کے مطابق سنگاپور سے امریکہ کے نیویارک ایئر پورٹ کے لئے رات ایک بج کر 26 منٹ پر روانہ ہونے والی سنگاپور ایئر لائن کی کمرشل پرواز میں صرف 11 مسافر سوار ہیں۔

دنیا کی سب سے طویل تجارتی پرواز ایس کیو 24، رات ایک بج کر 26 منٹ پر سنگاپور سے روانہ ہوئی، پرواز 17 گھنٹے 31 منٹ کا مسلسل طویل ترین سفر طے کر کے اگلی صبح نیویارک پہنچے گی۔

ایوی ایشن ذرائع کے مطابق اس پرواز کے لئے دو سال قبل اپریل 2018 میں پہلی اڑان بھرنے والی نئی ایئربس اے 350 زیر استعمال ہے جس میں مسافروں کی تین کیٹگریز ہیں اور اس ایئر بس میں 350 مسافروں کی گنجائش ہے۔ لیکن عالمی بحران کی سنگینی کی وجہ سے اس پرواز میں محض 11 مسافر سفر کر رہے ہیں جبکہ ان کی خدمت کے لئے 13 ممبرز موجود ہیں۔

ایوی ایشن ذرائع کے مطابق عام طور پر کم ترین تعداد میں مسافر ہونے پر پرواز منسوخ کردی جاتی ہیں لیکن ایئرلائنز کورونا بحران کی وجہ سے ساکھ بچانے کے لیے شدید نقصانات پر بھی پروازیں کرر رہی ہے۔