موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

تلنگانہ: شوگر فیکٹری کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ، احتجاج کرنے والے کسان اور کانگریس کے لیڈران گرفتار

کسانوں کا کہنا ہے کہ شوگر فیکٹری کو دوبارہ کھولنے کا ٹی آر ایس نے انتخابات سے پہلے وعدہ کیا تھا تاہم اس وعدہ کی تکمیل نہیں کی گئی۔ ان کسانوں نے انتباہ دیا کہ اس شوگر فیکٹری کے احیا تک احتجاج جاری رہے گا۔

حیدرآباد: متیم پیٹ شوگر فیکٹری کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کرنے والے کانگریس کے لیڈروں، کارکنوں اور کسانوں کو پولیس نے تلنگانہ کے ضلع جگتیال میں گرفتار کرلیا۔ کل رات سے گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ کسانوں نے اس بند فیکٹری کے احیا کا مطالبہ کرتے ہوئے چلو جگتیال کی اپیل کی تھی۔

اس پروگرام کی حمایت کرنے والے کانگریس کے لیڈروں اور کارکنوں کو احتیاطی طور پر پہلے ہی گرفتار کرلیا گیا ہے۔ پولیس نے کہا کہ کورونا کے اصولوں کے مطابق اجتماعی پروگراموں کے اہتمام کی کوئی اجازت نہیں ہے۔

دوسری طرف کسانوں کا کہنا ہے کہ اس شوگر فیکٹری کو دوبارہ کھولنے کا ٹی آر ایس نے انتخابات سے پہلے وعدہ کیا تھا تاہم اس وعدہ کی تکمیل نہیں کی گئی۔ ان کسانوں نے انتباہ دیا کہ اس شوگر فیکٹری کے احیا تک احتجاج جاری رہے گا۔ ان کسانوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے احتجاج کرنے والے کسانوں کی گرفتاری کی شدید مذمت کی اور کہا کہ کسانوں کے ساتھ پولیس کا رویہ نامناسب ہے۔ کسان اپنے حق کیلئے لڑائی لڑ رہے ہیں۔