موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج کے دوران مزید 38 مظاہرین ہلاک اور 80 زخمی

میانمار میں فروری میں بغاوت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک 126 مظاہرین کی موت ہو چکی ہے۔ احتجاج کے آغاز کے بعد سے کم از کم 2،156 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان پر مختلف الزام عائد کرکے مقدمات رپورٹ درج کئے گئے ہیں۔

ینگون: میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج کرنے والے کم از کم 38 مظاہرین ہلاک اور 80 لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم اسسٹنس ایسوسی ایشن فار پولیٹیکل پرزنرز (اے اے پی پی) نے یہ اطلاع دی۔ ان مظاہرین کی ہلاکت اتوار کے روز سیکیورٹی فورسز کے خلاف مظاہرے کے درمیان ہوئی ہے۔

میانمار میں سب سے بڑا احتجاج ینگون، منڈالے، باگو اور ہپاکن میں ہوا۔

خیال رہے میانمار میں فروری میں بغاوت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک 126 مظاہرین کی موت ہو چکی ہے۔ احتجاج کے آغاز کے بعد سے کم از کم 2،156 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان پر مختلف الزام عائد کرکے مقدمات رپورٹ درج کئے گئے ہیں۔

میانمار کی فوج کے زیر انتظام ایم آر ٹی وی کے مطابق اسی عرصے کے دوران ینگون میں دو سیکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ یکم فروری کو میانمار کی فوج نے سویلین حکومت کو برخاست کرنے کے بعد ایک سال کے لئے ہنگامی حالات کا اعلان کیا تھا۔ فوج نے بغاوت کے بعد ملک کے کئی اہم رہنماؤں کو بھی گرفتار کیا ہے۔