موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

ہوائی اڈوں کے بعد، حکومت اب بندرگاہوں کو بھی نجی ہاتھوں میں دینا چاہتی ہے: کانگریس

حکومت ملک کے کچھ ہوائی اڈوں کو اپنے صنعت کار دوستوں کے حوالے کرنے کے بعد، اب بندرگاہوں کو بھی نجی ہاتھوں میں سونپنا چاہتی ہے۔

نئی دہلی: کانگریس نے آج الزام عائد کیا کہ حکومت ملک کے کچھ ہوائی اڈوں کو اپنے صنعت کار دوستوں کے حوالے کرنے کے بعد اب عقبی دروازے سے ملک کی اہم بندرگاہوں کو بھی نجی ہاتھوں میں دینا چاہتی ہے۔

کانگریس کے شکتی سنگھ گوول نے بدھ کے روز راجیہ سبھا میں ’میجر پورٹس اتھارٹی بل 2020‘ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کا مسودہ تیار کرتے ہوئے بہت سے امور کو پیش نظر نہیں رکھا گیا، جس سے اس میں بہت ساری خامیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کو پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے پاس بھیجا گیا تھا اور کمیٹی نے اپنی رپورٹ بھی دے دی تھی لیکن لوک سبھا تحلیل ہونے کی وجہ سے اس بل کو واپس لایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ امر افسوسناک ہے کہ قائمہ کمیٹی کی سفارشات کو دوبارہ پیش کردہ بل میں شامل نہیں کیا گیا۔ لہذا اس بل کو دوبارہ قائمہ کمیٹی کے پاس بھیجا جائے اور بندرگاہوں کی نجکاری سے متعلق تمام خدشات دور کئے جائیں۔