موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

زرعی قوانین کے خلاف اتحاد کا مظاہرہ کریں کسان: جینت

مسٹر چودھری نے کہا کہ ان نئے قوانین کا کچھ بڑے کاروباریوں و سرمایہ داروں کو ہی فائدہ ملے گا۔ اگر یہ قوانین نافذ ہوتے ہیں تو ملک کا کسان برباد ہوجائےگا۔

بلند شہر: راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے نائب صدر جینت چودھری نے تینوں زرعی قوانین کو کسانوں کے مفاد کے خلاف قرار دیتے ہوئے کسانوں سے اس ضمن میں اتحاد کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

مسٹر چودھری نے آج یہاں ضلع کے کھرجا تحصیل کے فیروز پور گاؤں میں منعقد کسان مہاپنچایت میں کہا کہ ان نئے قوانین کا کچھ بڑے کاروباریوں و سرمایہ داروں کو ہی فائدہ ملے گا۔ اگر یہ قوانین نافذ ہوتے ہیں تو ملک کا کسان برباد ہوجائےگا۔ انہوں نے کہا کہ جب ملک کے کسان اس کی مخالفت کررہے ہیں تو مرکزی حکومت ان قوانین کو کیوں نافذ کرنے کے ضد پر ہے۔

آر ایل ڈی نائب صدر نے الزام لگایا کہ مرکز میں جب سے مودی حکومت اقتدار میں آئی ہے تبھی سے کسان و یومیہ مزدور کی اندیکھی جاری ہے۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم چودھری چرن سنگھ کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ چودھری صاحب کہتے تھے کہ کسان کو اپنی ایک آنکھ اقتدار پر اور دوسری آنکھ کھیتی پر رکھنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں وجوہات کی وجہ سے کسانوں میں اختلاف پیدا ہوا اور ان کا سیاسی طاقت ختم ہوگئی۔ یہی وجہ ہے کہ مرکزی حکومت اب کسانوں کے خلاف قانون بنا رہی ہے۔

انہوں نے کسانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ لکشمن ریکھا کھینچ لیں اور اس بات پر غور کریں کہ کون ان کا اپنا ہے اور کون ان کا مخالف۔ کسان اب متحد ہوکر اپنی کھوئی ہوئی سیاسی طاقت کو حاصل کرتے ہوئے ملک کو اس کا احساس کرائیں۔ انہوں نے وزیر اعظم کے ’’آندولن جیو‘‘ نامی نئی جماعت کھڑی ہونے کے طنز کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ملک کا کسان ’’آندولن جیو‘‘ نہیں بلکہ اپنے مستقبل کے فکر میں دھرنے پر بیٹھا ہے۔