موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

راجیہ سبھا نے جموں و کشمیر اور لداخ میں انتظامی اصلاحات بل کی دی منظوری

جموں و کشمیر اور لداخ میں انتظامی اصلاحات بل میں پڈوچیری میں نافذ آئین کے آرٹیکل 239A کو جموں و کشمیر اور لداخ میں بھی لاگو کرنے کا التزام کیا گیا ہے۔

نئی دہلی: راجیہ سبھا نے ریاست جموں و کشمیر اور لداخ میں انتظامی اصلاحات سے متعلق جموں و کشمیر تنظیم نو (ترمیمی) بل 2021 کو پیر کو منظوری دے دی۔

وزیر مملکت برائے داخلہ جے کشن ریڈی نے ایوان میں مختصر بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں نو تشکیل شدہ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ملک کے مرکزی دھارے میں شامل کرنے میں مدد ملے گی۔ اپنے بیان میں مسٹر ریڈی نے جموں و کشمیر اور لداخ میں ترقیاتی کاموں کی تفصیلات بتائی۔

یہ بل ایوان میں جمعرات کو جموں کشمیر تنظیم نو (ترمیم) آرڈیننس کی جگہ پیش کیا گیا تھا اور یہ جموں کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 کی جگہ لے گا۔

اس بل میں پڈوچیری میں نافذ آئین کے آرٹیکل 239A کو جموں و کشمیر اور لداخ میں بھی لاگو کرنے کا التزام کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بل میں یہ بھی تجویز پیش کی گئی ہے کہ جموں و کشمیر میں تعینات انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس، انڈین پولیس سروس اور انڈین فاریسٹ سروس کے افسران دونوں مرکز کے زیر انتظام علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ م میں تعینات رہیں گے۔ مستقبل میں دونوں علاقوں کے افسران ’اروناچل پردیش، گوا، میزورم یونین ٹیریٹری کیڈر‘ سے آئیں گے۔ اس بل میں جموں و کشمیر کیڈر کا ’اروناچل پردیش، گوا، میزورم یونین ٹیریٹری کیڈر‘ میں انضمام کا التزام کرتا ہے۔