موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

میانمار میں فوجی تختہ پلٹ کے خلاف زبردست احتجاج

میانمار میں حالیہ فوجی تختہ پلٹ کے خلاف مظاہرے کے دوران ہزاروں مظاہرین نے نعرے لگاتے ہوئے کہا کہ ہم فوجی آمریت نہیں چاہتے، ہم جمہوریت چاہتے ہیں۔

نیپئی تا: میانمار میں حالیہ فوجی تختہ پلٹ کے خلاف اور ملک کی اہم لیڈر آنگ سان سوکی کی جلد از جلد رہائی کے مطالبے پر ہزاروں افراد نے اتوار کے روز ملک بھر میں سخت احتجاج کیا۔

مظاہرے کے دوران ہزاروں مظاہرین نے نعرے لگاتے ہوئے کہا "ہم فوجی آمریت نہیں چاہتے، ہم جمہوریت چاہتے ہیں”۔ تاہم، تختہ پلٹ کرنے میں شامل فوجی افسران نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

اس سے قبل میانمار کے فوجی حکمرانوں نے ملک میں تختہ پلٹ کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں ہزاروں افراد کی شرکت کے پیش نظر ہفتہ کے روز انٹرنیٹ سروس بند کردی تھی، جسے اتوار کے روز دوبارہ بحال کردیا گیا تھا۔ فوج نے ٹویٹر اور انسٹاگرام جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر پابندی عائد کرنے کے فورا بعد ہی انٹرنیٹ سروس بند کردی تھی تاکہ لوگوں کو تختہ پلٹ کے خلاف احتجاج کرنے سے روکا جاسکے۔

جمعہ کے روز ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ بہت سے صارفین نے ورچوئل پرائیوٹ نیٹ ورکس (وی پی این) کا استعمال کرکے سوشل میڈیا پر عائد پابندیوں کو نظرانداز کیا ہے، لیکن عام طور پر اس پابندی کا اثر ظاہر ہورہا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق رنگون شہر میں لوگوں کی بھیڑ احتجاج میں شامل ہوئی اور مظاہرین نے ‘فوجی آمریت مردہ باد’ اور ‘جمہوریت زندہ باد’ کے نعرے لگائے۔ تاہم مظاہرین سے نمٹنے کے لئے پولیس کی ایک بڑی تعداد کو تعینات کردیا گیا ہے اور شہر کے تمام اہم راستے بند کردیئے گئے ہیں۔