موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

لگاتار کسانون کے معاملے پر اپوزیشن ممبران کا ہنگامہ، لوک سبھا کی کارروائی میں تیسرے دن بھی خلل

بجٹ اجلاس کے تیسرے روز بھی کسانون کے معاملے پر اپوزیشن ممبران نے ہنگامہ جاری رکھا، جس کی وجہ سے آج بھی وقفہ سوال نہیں ہو سکا۔ ایوان کے وسط میں آکر اپوزیشن ممبران نے زرعی اصلاحات کے قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت مخالف نعرے بازی کی۔

نئی دہلی: لوک سبھا کے بجٹ اجلاس کے تیسرے روز لگاتار کسانون کے معاملے پر حزب اختلاف کے ممبران نے ہنگامہ جاری رکھا، جس کی وجہ سے آج بھی وقفہ سوال نہیں ہو سکا شام 4 بجے، اسپیکر اوم برلا نے وقفہ سوال شروع کردیا اور بی جے پی کے رمیش بدھوڑی کا نام سوالات کرنے کے لئے پکارا۔ دوسری طرف، ایوان کے وسط میں آکر حزب اختلاف کے ممبران نے زرعی اصلاحات کے قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت مخالف نعرے بازی کی۔

نعرے بازی کے درمیان، روڈ ٹرانسپورٹ قومی شاہراہ کے وزیر نتن گڈکری نے اس محکمہ سے متعلق سوالات کے جوابات دیئے۔ مسٹر بدھوڑی، جنہوں نے معذور افراد کی سہولت سے متعلق سوالات کئے تھے، اپوزیشن ممبران سے کہا کہ وہ معذور افراد کی دلچسپی کے بارے میں سوالات اٹھائیں اور ایوان میں خلل نہ ڈالیں۔

جب دو سوال ہونے کے بعد نعرہ بازی بند نہیں ہوئی تو اسپیکر برلا نے اپوزیشن ممبران سے کہا کہ وقفہ سوال اپوزیشن کے لئے بہت اہم ہے۔ اس میں حکومت عوامی دلچسپی کے موضوعات پر ردعمل ظاہر کرتی ہے۔ لہذا، وقفہ سوال میں خلل نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن حزب اختلاف کے ممبروں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس کے بعد اسپیکر نے ایوان کی کارروائی چار بجے تک ملتوی کردی۔