موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

کسان تحریک اپنی سمت سے بھٹکی، لال قلعہ کا واقعہ مذمت کے قابل: کھٹر

وزیراعلی منوہر لال کھٹر نے کہا کہ لال قلعہ پر قومی جھنڈے کے علاوہ کوئی دیگر جھنڈا لہرایا جانا کوئی بھی ہندوستانی برداشت نہیں کرسکتا۔ ایسا کرنا ان مجاہدین آزادی اور امر شہدا کی توہین ہے جنہوں نے لال قلعہ پر ترنگا لہرانے کے لئے اپنی جان تک قربان کردی۔

چندی گڑھ: ہریانہ کے وزیراعلی منوہر لال کھٹر نے دہلی میں خاص طور پر لال قلعہ پر ہوئے واقعات کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کسان تحریک اب اس کے لیڈروں کے کنٹرول سے باہر ہونے کے ساتھ ہی اپنی سمت سے بھٹک چکی ہے۔

مسٹر کھٹر نے منگل کی دیر شام بلائی کابینہ کی خصوصی میٹنگ کے بعد دہلی میں یوم جمہوریہ پر ہوئے واقعات کے سلسلہ میں یہ رد عمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کسانوں سے بھی اپیل کی کہ کل کے افسوسناک واقعات کے بعد وہ اپنے گھر واپس چلے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری کابینہ اس بات پر ایک رائے ہے کہ اس وقت ریاست کے عوام متحد ہوکر غیر سماجی عناصر کے ناپاک ارادوں کو ناکام کریں اور ملک اور ریاست میں امن قائم رکھنے میں تعاون کریں۔

لال قلعہ پر قومی جھنڈے کے علاوہ کوئی جھنڈا لہرانا ناقابل برداشت

وزیراعلی نے کہا کہ لال قلعہ پر قومی جھنڈے کے علاوہ کوئی دیگر جھنڈا لہرایا جانا کوئی بھی ہندوستانی برداشت نہیں کرسکتا۔ ایسا کرنا ان مجاہدین آزادی اور امر شہدا کی توہین ہے جنہوں نے لال قلعہ پر ترنگا لہرانے کے لئے اپنی جان تک قربان کردی۔ انہوں نے کہا کہ مجاہدین آزادی نے آزادی اس طرح کی افراتفری پھیلانے کے لئے نہیں دلائی تھی۔

انہوں نے کہا کہ کسان تنظیموں نے دہلی میں پر امن مظاہرہ کا یقین دلایا تھا لیکن اس واقعہ نے ثابت کردیا ہے کہ تحریک کی قیادت ان ہاتھوں میں چلی گئی ہے جن کے کہنے اور کرنے میں فرق ہے۔ اس لئے اب کسان بھائیوں کو اس موضوع پر باریکی سے غور و خوض کرنا چاہئے کہ تحریک کس سمت میں جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں اختلافات دور کرنے کی کافی گنجائش ہے لیکن انہیں مل بیٹھ کر ہی دور کیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

دہلی پولیس کی کسانوں سے واپس لوٹنے کی اپیل