موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

دہلی پولیس کی کسانوں سے واپس لوٹنے کی اپیل

ٹریکٹر ریلی کے دوران مکربا چوک، ٹرانسپورٹ نگر، آئی ٹی او اور اکشردھام سمیت دیگرمقامات پر ہوئے تصادم کے درمیان کسانوں کا ایک جتھا لال قلعہ احاطے میں پہنچ کر کسانوں کا جھنڈا لہرادیا ہے۔

نئی دہلی: دہلی پولیس نے مشتعل کسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ تشدد کا راستہ چھوڑیں اور امن برقرار رکھیں اور اپنے طے شدہ راستوں سے واپس لوٹ جائیں۔

دہلی پولیس نے منگل کو ایک بیان جاری کرکے کہا ہے کہ آج کی ٹریکٹر ریلی کے لئے دہلی پولیس نے کسانون کے ساتھ طے ہوئی شرائط کے مطابق کام کیا اور ضروری بندوبست کیا۔

دہلی پولیس آخر تک کافی تحمل کا مظاہرہ کیا لیکن مشتعل کسانوں نے طے شرائط کو ماننے سے انکار کردیا اور طے وقت سے پہلے ہی اپنی مارچ شروع کردی اور مظاہرین نے تشدد و توڑ پھوڑ کا راستہ چنا۔

انہوں نے بتایا کہ مشتعل کسانوں کی تخریب کاری کے پیش نظر دہلی پولیس نے امن و امان برقرار رکھنے کے لئے تحمل کے ساتھ ضروری اقدامات کیے۔ اس تحریک نے عوامی املاک کو بہت نقصان پہنچایا ہے اور متعدد پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ مشتعل افراد سے اپیل ہے کہ وہ تشدد کا راستہ ترک کریں اور امن برقرار رکھیں اور اپنے طے شدہ راستوں سے واپس لوٹ جائیں۔

کسان ریلی کے دوران متعدد مقامات پر جھڑپیں

واضح رہے کہ کسان ریلی کے دوران کسانوں نے متعدد مقامات پر بیریکیڈ توڑ کر دہلی میں داخل ہوئے اور اس دوران آئی ٹی او، مقبرہ چوک، نانگلوئی سمیت متعدد مقامات پر جھڑپیں ہوئیں جس میں کچھ کسان اور پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

ٹریکٹر ریلی کے دوران مکربا چوک، ٹرانسپورٹ نگر، آئی ٹی او اور اکشردھام سمیت دیگرمقامات پر ہوئے تصادم کے درمیان کسانوں کا ایک جتھا لال قلعہ احاطے میں پہنچ کر کسانوں کا جھنڈا لہرادیا ہے۔ آئی ٹی او پر ٹکراو کے دوران بڑی تعداد میں کسانوں نے لال قلعہ احاطہ میں داخل ہوکر اپنا جھنڈا لہرا دیا۔ پندرہ اگست کو جس مقام پر جھنڈا لہرایا جاتا ہے اس کے پاس ہی کسانوں نے اپنا پرچم لگادیا۔