موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

جموں وکشمیر انتظامیہ اقلیتی طبقات کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے: محبوبہ مفتی

جموں میں مسلم اکثریتی علاقوں میں انہدامی کارروائیاں انجام دی جا رہی ہیں جبکہ اصلی لینڈ مافیا کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جار ہی ہے۔

سری نگر: پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جموں و کشمیر انتظامیہ پر جموں میں اقلیتی فرقے سے وابستہ لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھنے کا الزام لگایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جموں میں مسلم اکثریتی آبادی والے علاقوں میں انہدامی کارروائیاں انجام دی جا رہی ہیں جبکہ اصلی لینڈ مافیا کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔

موصوفہ نے ان باتوں کا اظہار اپنے ایک ٹویٹ میں کیا۔

ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا: ’جموں وکشمیر انتظامیہ اقلیتی فرقوں کو سزا دینے میں مصروف عمل ہے۔ جموں میں مسلم اکثریتی علاقوں میں انہدامی کارروائیاں انجام دی جا رہی ہیں جبکہ اصلی لینڈ مافیا کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جار ہی ہے۔ اس حکومت کے ہر اقدام سے فرقہ وارانہ اور نفرت انگیز سیاست چھلکتی ہے‘۔

بتادیں کہ جموں کے سنجوان علاقے میں جمعہ کے روز جموں میونسپل کارپوریشن کی انہدامی کارروائیوں کے دوران تشدد بھڑک اٹھا جس کے نتیجے میں کارپوریشن کے دو ڈرائیور اور ایک پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

اسے بھی پڑھیں:

کیا اصلاحات کے لیے بھارت کی جمہوریت صحت مند ہونے کی بجائے حد سے زیادہ ہوگئی ہے؟