موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

بی جے پی کے احتجاجی مظاہرے کی کسانوں نے کی شدید مخالفت

کسانوں کی مخالفت پر مسٹر اشونی شرما نے کہا کہ جمہوریت میں جس آئین نے لوگوں کو احتجاجی مظاہرہ کر کے اپنی بات رکھنے کی اجازت دی ہے، اسی آئین نے بی جے پی کو احتجاج کرنے کی اجازت دی ہے۔

جالندھر: پنجاب میں بگڑتی امن و قانون کی صورتحال اور موجودہ سیاسی حالت پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی احتجاجی ریلی کی کسان تنظیموں نے شدید مخالفت کی۔

بی جے پی کے ریاستی صدر اشونی شرما سمیت دیگر سینئر لیڈروں کے ساتھ مقامی کمپنی باغ چوک پر امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور موجودہ سیاسی صورتحال کے سلسلے میں آج احتجاجی مظاہرہ کرنے پہنچے تھے۔ اس کی اطلاع موصول ہوتے ہی سیکڑوں کسانوں نے احتجاجی مظاہرے کی مخالفت کرنا شروع کر دی۔

کسانوں کو احتجاجی مظاہرے کے مقام تک پہنچنے سے روکنے کے لئے پولیس نے ٹرک کھڑے کردیئے اور سڑک پر بیریکیڈس لگائے، لیکن کسانوں نے بریکیڈس توڑ کر احتجاجی مقام تک پہنچنے کی کوشش کی۔ اس دوران کسانوں کی پولیس کے ساتھ دھکا مکی بھی ہوئی۔ کسانوں نے بی جے پی کے احتجاجی مقام کے نزدیک سڑک پر دھرنا لگا دیا۔

بی جے پی کے ریاستی صدر مسٹر شرما دوسرے راستے سے احتجاج کے مقام پر پہنچے۔ انہوں نے میڈیا سے دوری بنائے رکھی۔ کسانوں کی مخالفت پر مسٹر شرما نے کہا کہ جمہوریت میں جس آئین نے لوگوں کو احتجاجی مظاہرہ کر کے اپنی بات رکھنے کی اجازت دی ہے، اسی آئین نے بی جے پی کو احتجاج کرنے کی اجازت دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی کسانوں کا احترام کرتی ہے لیکن مخالفت کرنے والے کسان نہیں ہوسکتے ہیں۔