موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

امریکہ میں ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کے ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے پر روک

ٹرمپ انتظامیہ نے چین حکومت کے ذریعہ امریکی شہریوں کے ڈاٹا چوری کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا۔ ایک وفاقی جج نے ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کے ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے پر روک لگادی ہے۔

واشنگٹن: امریکہ میں ایک وفاقی جج نے چین کی کمپنی بائٹ ڈانس کے ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کے ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے پر روک لگادی ہے۔
پیر کے روز عدالتی دستاویزات میں بتایا گیا ’’ٹک ٹاک ایپ پر پابندی عمل میں آنے سے روکنے کے لئے ابتدائی حکم امتناعی جاری کیا گیا ہے۔ اس میمورنڈم اوپینئن کے ساتھ ایک آرڈر دیا جائے گا‘‘۔ جج نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے اختیار سے باہر جاکر ٹک ٹاک پر پابندی عائد کی اور اس کے کام کو من مانا اور ڈراونا قرار دیا۔‘‘
واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے چین حکومت کے ذریعہ امریکی شہریوں کے ڈاٹا چوری کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا۔ امریکہ میں ٹک ٹاک پر 20 دسمبر سے پابندی عمل میں آنی تھی لیکن بعد میں انتظامیہ نے کمپنی کو اپنی جائیداد فروخت کرکے امریکہ سے جانے کا حکم دیا، جس کے سبب اس میں تاخیر ہوئی۔