موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

سرکار سے بات چیت کر رہے کسان رہنماؤں نے سرکاری کھانا ٹھکرایا، گردوارے کا لنگر کھایا

کسان رہنماؤں نے سرکاری کھانا ٹھکراتے ہوئے حکومت کو سخت پیغام دیا۔ اس میٹنگ کے دوران، جو بارہ بجے سے جاری تھی، جب کھانے کا وقت ہوا تو کسانوں نے گردوارے سے لنگر منگایا اور زمین پر بیٹھ کر کھانا کھایا۔

نئی دہلی: مشتعل کسان قائدین نے جمعرات کو زرعی اصلاحات کے قوانین کی مخالفت کرتے ہوئے سرکار کی طرف سے کھانے کو ٹھکراتے ہوئے حکومت کو سخت پیغام دیا۔ فصلوں کی کم سے کم امدادی قیمت کی ضمانت کی فراہمی کے لئے یہاں وگیان بھون میں کسانوں کی تنظیموں اور حکومت کے مابین مذاکرات کا چوتھا دور جاری ہے۔
وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر، خوراک اور فراہمی کے وزیر پیوش گوئل اور وزیر مملکت برائے تجارت سوم پرکاش اجلاس میں شریک ہیں۔ حکومت کسان تنظیموں کے چالیس نمائندوں سے بات چیت کر رہی ہے۔

اس میٹنگ کے دوران، جو بارہ بجے سے جاری تھی، جب کھانے کا وقت ہوا تو کسانوں نے گردوارے سے لنگر منگایا اور زمین پر بیٹھ کر کھانا کھایا۔ اس کے بعد، بات چیت دوبارہ شروع ہوئی جو اب بھی جاری ہے۔