موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

انجینئرس فیڈریشن کا بھی کسان تحریک کی حمایت کا فیصلہ

انجینئرس فیڈریشن نے زرعی قوانین اور الیکٹرسٹی (ترمیمی) بل کی واپسی کا مطالبہ کیا اور کسانوں کو حمایت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ الیکٹرسٹی (ترمیمی) بل کا ڈرافٹ جاری ہوتے ہی بجلی انجینئروں نے اس کی مخالفت کی تھی۔

لکھنؤ: آل انڈیا پاور انجینئرس فیڈریشن نے زرعی قوانین اور الیکٹرسٹی (ترمیمی) بل کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے گذشتہ سات دنوں سے سراپا احتجاج کسانوں کے حمایت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

آل انڈیا پاور انجینئرس فیڈریشن کے چیئرمین شیلندر دوبے نے آج یہاں کہا کہ الیکٹرسٹی (ترمیمی) بل کا ڈرافٹ جاری ہوتے ہی بجلی انجینئروں نے اس کی مخالفت کی تھی۔ اس بل میں اس بات کی تجویز ہے کہ کسانوں کو بجلی ٹیرف میں مل رہی سبسڈی ختم کردی جائے اور بجلی کے اخراجات سے کم قیمت پر کسانوں سمیت کسی بھی صارف کو بجلی نہ دی جائے۔

اگر بل میں اس بات کی تجویز ہے کہ حکومت کو چاہے تو ڈائریکٹر بنیفٹ ٹرانسفر کے ذریعہ کسانوں کو سبسڈی دے سکتی ہے مگر اس سے پہلے کسانوں کو بجلی بل کے پوری ادائیگی کرنی پڑے گی جو سبھی کسانوں کے لئے ممکن نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کسان مشترکہ مورچہ کی اپیل پر چل رہی تحریک میں زرعی قوانین کی واپسی کے ساتھ کسانوں کی یہ ایک اہم مطالبہ ہے کہ بجلی (ترمیمی) بل 2020 واپس لیا جائے۔