موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

کسانوں نے کمیٹی بنانے کی حکومت کی تجویز کو کیا مسترد، احتجاج کو جاری رکھنے کے عزم کا کیا اظہار

 

ساڑھے تین گھنٹے تک جاری رہنے والی میٹنگ کے بعد، وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ حکومت اور کسان تنظیموں کے مابین اچھا مکالمہ ہوا ہے۔  کسانوں کے نمائندوں نے کہا کہ اگر حکومت امن چاہتی ہے تو اسے کسانوں کی مشکلات کو حل کرنا چاہئے۔ کسان اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

نئی دہلی: کسان تنظیموں نے منگل کو زرعی مسائل کے حل کے لئے کمیٹی بنانے کی حکومت کی تجویز کو مسترد کردیا اور احتجاج کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

تقریبا ساڑھے تین گھنٹے تک جاری رہنے والی اس میٹنگ کے بعد، وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ حکومت اور کسان تنظیموں کے مابین اچھا مکالمہ ہوا ہے اور بات چیت جمعرات کو بھی جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے کسانوں کی مشکلات کے حل کے لئے کمیٹی بنانے کی تجویز پیش کی تھی، لیکن اس پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔

اس میٹنگ میں وزیر خوراک و سپلائی وزیر پیوش گوئل اور وزیر مملکت برائے تجارت سوم پرکاش اور 35 کسان قائدین نے شرکت کی۔ اجلاس سہ پہر 3 بجے وگیان بھون میں شروع ہوا۔

کسانوں کے نمائندوں نے کہا کہ اگر حکومت امن چاہتی ہے تو اسے کسانوں کی مشکلات کو حل کرنا چاہئے۔ کسان اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

دریں اثنا، مہاراشٹر اور کئی دیگر ریاستوں کے کسان نمائندے اس تحریک سے اظہار یکجہتی کے لئے قومی دارالحکومت آئے۔