موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

لو جہاد قانون سے بے روزگاری، پسماندگی اور غریبی ختم ہو جائے تو ہمیں کوئی دقت نہیں: دگوجے

مدھیہ پردیش کے سابق وزیراعلی دگوجے سنگھ بی جے پی حکومت پر اہم مسئلوں سے توجہ بھٹکانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ آج جو مسئلے ہیں، حکومت ان پر کیوں توجہ نہیں دے رہی ہے۔ اگر لو جہاد قانون سے بے روزگاری، پسماندگی اور غریبی ختم ہوجائے تو ہمیں کوئی دقت نہیں ہے۔

دموہ: مدھیہ پردیش کے سابق وزیراعلی دگوجے سنگھ نے لو جہاد کے سلسلے میں کہا ہے کہ اگر اس سے بے روزگاری، پسماندگی اور غریبی ختم ہوجائے تو ہمیں کوئی دقت نہیں۔
مسٹر سنگھ نے ایک نجی پروگرام میں بھوپال سے پنا جاتے وقت کل رات دموہ میں بی جے پی حکومت پر اہم مسئلوں سے توجہ بھٹکانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ آج جو مسئلے ہیں، حکومت ان پر کیوں توجہ نہیں دے رہی ہے۔
انہوں نے کورونا ویکسن کے مدھیہ پردیش میں لوگوں پر ہونے والے ٹیسٹ پر کہا کہ اس میں پروٹوکول پر عمل ہونا چاہئے۔ حکومت کو جلد بازی نہیں کرنی چاہئے۔ اگر کوئی برا اثر ہوا تو ذمہ داری کس کی ہوگی۔
کسان تحریک پر انہوں نے کہا کہ کسان اپنی بنیادی سہولیات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بی جے پی کو اس پر بات چیت کرنی تھی۔ اس قانون سے بڑے لوگوں اور ملٹی نیشنل سطح کے لوگوں کو فائدہ پہنچایا جارہا ہے، اس لئے کسان تحریک کر رہے ہیں۔ اگر قانون لانے سے پہلے ہی حکومت کسانوں سے بات کرلیتی، تو یہ نوبت ہی نہیں آتی۔

مسٹر سنگھ نے ضمنی انتخابات کے نتائج کے سلسلے میں کہا کہ الیکشن کے نتائج کانگریس کی امید کے مطابق نہیں رہے۔ اس بات کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔ مستقبل میں ہونے والے علاقائی بلدیاتی انتخابات میں نوجوانوں کو موقع دیا جائےگا۔